بھارت

بھارت : الیکشن کمیشن نے خصوصی نظرثانی کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی: سابق بی جے پی وزیر

ایس آئی آر کا عمل غیر قانونی ہے، لاکھوں اہل ووٹرز کو فہرستوں سے غیر قانونی طورپر خارج کر دیا گیا

نئی دہلی: بھارت کے سابق وزیر اور ریٹائرڈ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر آر کے سنگھ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار اور بھارتی الیکشن کمیشن کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرکے سنگھ نے اس عمل کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں لاکھوں اہل ووٹرز کو ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیا گیا۔عوام کے نام ایک کھلے خط میں آر کے سنگھ نے مو¿قف اختیار کیا کہ ملک گیر نظرثانی نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی کی جو صرف مخصوص حلقوں یا حلقوں کے مخصوص حصوں میں خصوصی نظرثانی کی اجازت دیتی ہے اور اس کے لیے وجوہات تحریری طور پر درج کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ پورے ملک کے لیے جامع نظرثانی کا حکم غیر قانونی تھا۔ خصوصی حالات میں دی گئی رعایت کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ملک بھر میں یہ مشق کرنے کا فیصلہ مکمل الیکشن کمیشن نے کیا تھا یا صرف گیانیش کمار نے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہونے کے باوجود نظرثانی شدہ انتخابی فہرستوں کو انتخابات میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹرز کے نام قانونی طور پر مطلوبہ تحقیقات یا متاثرہ افراد کو اپنا مو¿قف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر حذف کر دیے گئے۔ سابق وزیر نے نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک اضافی ضمیمہ شامل کیا گیا جس کے تحت درخواست دہندگان سے 2003 کی انتخابی فہرستوں میں اپنے والدین کے ناموں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ یہ اضافہ مناسب اجازت کے بغیر کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایاکہ نوجوان ووٹرز سے 2003 کی انتخابی فہرستوں تک رسائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ اس شرط نے ووٹر رجسٹریشن میں اضافی رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔آرکے سنگھ نے نظرثانی کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے منطقی تضادات قرار دی جانے والی بنیاد کے استعمال پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین اور بچوں کی درج شدہ عمروں میں فرق اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سے افراد خصوصاً معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات موجود نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ نظرثانی کے عمل سے مزدوروں سمیت غریب اور پسماندہ طبقات غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، کیونکہ ان کے لیے اپنے آبائی انتخابی حلقوں میں واپس جا کر رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن کے خلاف اعتراضات بڑی تعداد میں اجتماعی طور پر دائر کیے گئے اور سوال اٹھایا کہ ان اعتراضات کو قبول کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کا طریقہ کار کیا تھا۔
سنگھ نے مغربی بنگال کے 16 لاکھ ووٹرز کا حوالہ دیا جن کے بارے میںانتخابی رجسٹریشن افسران نے رجسٹریشن منظور کر دی تھی، لیکن اپیلیں زیر التوا ہونے کے باعث ان کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ اپیلیں کن بنیادوں پر دائر کی گئیں اور کیا الیکشن کمیشن نے ان کی اجازت دی تھی۔
آرکے سنگھ نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ناموں کا اخراج انتخابی عمل میں عوام کی شرکت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔گیانیش کمار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنگھ نے چیف الیکشن کمشنرکے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مواخذے کے ذریعے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش مو¿ثر ثابت نہیں ہوگی کیونکہ اپوزیشن کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو جائیں اور اس وقت تک انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیں جب تک چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز مستعفی نہیں ہو جاتے اور تقرری کا نیا طریقہ کار قائم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے ان ریاستوں میں نئے انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا جہاں ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہونے کے دوران انتخابات کرائے گئے تھے۔
آرکے سنگھ 2019 سے 2024 کے دوران نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت میں وزیررہے ہیں۔ اس سے قبل وہ من موہن سنگھ کی حکومت میں 2011 سے 2013 تک وزیر داخلہ بھی رہے۔ انہوں نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے باعث معطلی کے بعد نومبر 2025 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے استعفیٰ دیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button