انڈیا اتحاد کا انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل
جمہوریت بچاوؐ مارچ اور 6اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کا اعلان
نئی دہلی: بھارت میں حزب اختلاف کی اہم جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہوئے 2 سے 8 اکتوبر تک جمہوریت بچا ئومارچ اور6اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کا اعلان کیاہے ۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام جماعتیں انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوںکے بجائے بیلٹ پیپرز کے ذریعے کرانے کے مطالبے پر متفق ہیں۔ 6اکتوبر کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے، جبکہ اپوزیشن رہنما اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں بھارت کے صدرِ سے ملاقات کریں گے اور "ووٹ چوری میں ملوث مودی حکومت” کے خلاف اپنے خدشات کے اظہار کریں گے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ انڈیااتحاد پانچ بڑی ریلیاں منعقد کرے گاجبکہ یکم نومبر کو نئی دہلی میں ایک بڑی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا اتحاد سپریم کورٹ سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات کی کارروائی تیز کرنے کی اپیل کرتاہے ۔انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفاتر کے باہر احتجاج کابھی اعلان کیا ۔کانگریس صدر نے کہاکہ یہ مہرے )الیکشن کمشنر) تو محض ظاہری چہرے ہیں، ووٹوں کی چوری کے پیچھے دراصل وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ مودی جی اسی طرح دھاندلی اور ووٹ چوری انتخابات جیت رہے ہیں اور جمہوریت کے لیے لڑنے والوں کو "ہراساں” کیاجارہاہے ۔
اجلاس میں کانگریس کے رہنمائوں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، تیجسوی یادو اور سپریا سولے سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ شیو سینا (یو بی ٹی)کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ملک کے جمہوری ڈھانچے پر حملہ کیا ہے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جنہوں نے ملک میں جمہوریت کو تباہ کیا ہے، انہیں سزا ملے۔انہوں نے کہاکہ انڈیا اتحاد کے رہنما آئین کے اجتماعی محافظ ہیں اور اپوزیشن انتخابی عمل سے متعلق اپنے خدشات پر خاموش نہیں رہے گی۔ راہل گاندھی نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔
ممتا بنرجی نے بھی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اپوزیشن اس معاملے پر تحریک چلائے گی۔
اجلاس میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، آل انڈیا ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(شرد پوار)، شیو سینا (یو بی ٹی)، راشٹریہ جنتا دل، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ اجلاس الیکشن کمیشن کے اندر ایس آئی آر سے متعلق اختلافات کی رپورٹس کے بعد ہوا۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔








