نئی میڈیا پالیسی: مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل صحافت پر مزید پابندیاں
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حکام ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کروا رہے ہیں جس کے تحت آن لائن نیوز پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور ضابطہ کاری (ریگولیشن) کی جائے گی، تاکہ خطے میں آزادانہ صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے گنجائش مزید کم کی جا سکے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے کی وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سکینہ اِتو نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نیو میڈیا پالیسی 2026′ پر کام کر رہی ہے، جس میں آن لائن نیوز میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور ضابطہ کاری کی دفعات شامل ہوں گی۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف نیشنل کانفرنس کے قانون ساز بشیر احمد شاہ ویری کے ایک سوال کے جواب میں کیا ۔
تجویز کردہ لائحہ عمل محض غلط معلومات کے مسئلے سے نمٹنے تک محدود نہیں ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اپنے متعلقہ اضلاع میں کام کرنے والے غیر رجسٹرڈ سوشل میڈیا نیوز ہینڈلز کی تفصیلی فہرستیں مرتب کرے گی۔ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے پلیٹ فارمز سے نمٹنے کے لیے جامع رہنما خطوط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار وضع کریں۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جھوٹی، گمراہ کن یا من گھڑت معلومات پھیلانے والوں کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، بھارتیہ نیایا سنہتا 2023 اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
اگرچہ حکام نام نہاد گمراہ کن معلومات کا حوالہ دے کر ان اقدامات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ وسیع ضابطہ کارانہ ڈھانچہ آزاد صحافیوں اور چھوٹے ڈیجیٹل نیوز آو¿ٹ لیٹس پر اضافی دباو¿ ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے سیاسی طور پر متنازعہ خطے میں جہاں انسانی حقوق، سیاسی پیش رفت اور عوامی شکایات پر رپورٹنگ پہلے ہی بھارت کی سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں ہے۔
حکام نے میڈیا کے خلاف احتساب اور غلط معلومات کے سدِ باب کے نام پر سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کی مجموعی نگرانی اور کنٹرول میں ‘سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر’ بھی قائم کیا ہے۔
تجویز کردہ رجسٹریشن کا نظام، غیر رجسٹرڈ نیوز ہینڈلز کی ضلعی سطح پر نگرانی اور مواد کی جانچ پڑتال، مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں اور آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے مستقبل میں کام کرنے کی گنجائش کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ایسے خطے میں جہاں معلومات تک رسائی اور آزادانہ رپورٹنگ کی صلاحیت انتہائی حساس معاملات ہیں، یہ مجوزہ پالیسی خبروں اور عوامی بحث و مباحثے پر سرکاری نگرانی کو مزید سخت کر سکتی ہے۔





