نئی دہلی :عدالت کی طرف سے حریت رہنمائوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات عائد
نئی دہلی : نئی دہلی کی ایک عدالت نے غیر قانونی طورپر نظربند سینئر حریت رہنمائوں سمیت 7 افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے بیرون ملک سے فنڈ ز وصول کرنے سے متعلق مقدمے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک اور چار دیگر افراد کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے۔
عدالت کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن3کے تحت الزامات عائد کرنے کی بنیاد موجود ہے۔ اس دفعہ کے تحت سات سے دس سال قید اور جرمانے سزا دی جاسکتی ہے ۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے حریت رہنمائوں پر الزام عائد کیا کہ ملزمان نے بیرون ملک سے حوالہ اور دیگر ذرائع سے رقوم وصول کیں۔ای ڈی کے مطابق یہ رقوم مختلف ذرائع سے منتقل کی گئیں،جنہیں مبینہ طورپر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے سرگرمیوں کے لیے استعمال کی گئیں ۔
استغاثہ کے مطابق تقریبا 8کروڑ94لاکھ بھارتی روپے غیر قانونی طورپربیرون ملک سے وصول کئے گئے ۔
منی لانڈرنگ کا یہ مقدمہ 2017میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”این آئی اے”کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے سے شروع ہواتھا۔
این آئی اے نے اس مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے”کی مختلف دفعات عائد کی تھیں۔ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کئی برس سے مختلف جھوٹے مقدمات کے سلسلے میں مسلسل جیل میں قید ہیں۔








