مقبوضہ جموں و کشمیر

ہائی کورٹ نے شوپیاں کے شہری کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم قرار دے دی

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے ایک کشمیری شہری کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظربندی کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے رہائشی معشوق احمد شاہ کو کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میںفوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔جسٹس راج نیش اوسوال کی سربراہی میں بنچ نے 23 دسمبر 2025 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شوپیاں کی جانب سے جاری کیا گیا نظربندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہاکہ نظربندی کی وجوہات میں پائی جانے والی مبہم نوعیت آئین کے آرٹیکل 22(5) کے تحت حاصل آئینی ضمانت کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کشمیری شہریوں کو پی ایس اے کے تحت ایسی غیر واضح بنیادوں پر حراست میں رکھا جا سکتا ہے جو انہیں اپنے خلاف الزامات کا مناسب طور پر دفاع کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔عدالت نے معشوق احمد شاہ کی نظربندی کے خلاف دی گئی درخواست پر غور کرنے میں ہونے والی تاخیر کا بھی سخت نوٹس لیا۔ ان کی درخواست 14 جنوری 2026 کو حکام کو موصول ہوئی، تاہم اس پر فیصلہ 2 مارچ 2026 تک نہیں کیا گیا یعنی ڈیڑھ ماہ سے بھی زیادہ کی تاخیر ہوئی۔
عدالت نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعہ 13 نظربندی کی وجوہات مقررہ مدت کے اندر متاثرہ شخص کو بتانے کا تقاضا کرتی ہے اور اسے جلد از جلد نمٹانے کا حق فراہم کرتی ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ ایسی درخواست پر تاخیر کے بغیر غور کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ غیر وضاحتی تاخیر نے شاہ کی نظربندی کو مزید غیر قانونی بنا دیا اور حکام کو انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔یہ فیصلہ ایک بار پھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں پی ایس اے کے من مانی استعمال کے حوالے سے خدشات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کشمیری نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو فوجداری مقدمات کے بغیر طویل عرصے تک نظربند رکھے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ کی نظربندی کو کالعدم قرار دیا جانا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مبہم الزامات اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر مبنی حراستی احکامات شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر سکتے ہیں اور انہیں مو¿ثر عدالتی نگرانی کے بغیر سلاخوں کے پیچھے رکھ سکتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button