بڈگام میں نامعلوم افراد نے سیب کے 3ہزار درخت کاٹ ڈالے

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع بڈگام کے علاقے رنگین کلتریہ چاڈورہ میں نامعلوم افراد نے سیب کے 3ہزار سے زائد درخت کاٹ دیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس واقعے نے باغات کے مالکان کو تباہی سے دوچار کردیاکیونکہ برسوں کی محنت، سرمایہ کاری اور امیدپر راتوں رات پانی پھرگیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بہت سے خاندانوں کے لئے سیبوں کی کاشت نہ صرف آمدنی کاواحد ذریعہ ہے بلکہ یہ طرز زندگی کا حصہ ہے۔ باغات پر کسانوں کے خوابوں اور مستقبل کا دارومدار ہے جنہوں نے ان کی نشونما کے لئے سالہاسال محنت کی ہوتی ہے۔ تباہ شدہ اور کٹے ہوئے درختوں کو دیکھ کر متاثرہ خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ حکام نے معاملے کا نوٹس لیااور پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقامی لوگ ذمہ داروں کی نشاندہی اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔کاشتکار مطالبہ کررہے ہیں کہ متاثرین کو انصاف فراہم کیاجائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں کیونکہ اسے نہ صرف انفرادی خاندان متاثرہوتے ہیں بلکہ علاقے کا باغبانی کا شعبہ اور معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔





