مقبوضہ جموں و کشمیر

انسانی حقوق کے کارکنوں کا مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کریک ڈاﺅن، ہزاروں لوگوں کی گرفتاری پر اظہار تشویش

سری نگر: انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مبصرین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری تازہ ترین کریک ڈاﺅن ، 3ہزار سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری اور مکانات کی مسماری پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو ایک پولیس اہلکار کے قتل پر علاقے کی پوری آبادی کو اجتماعی سز ا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں اور مبصرین کا کہنا ہے نامعلوم مسلح افرا د کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل پر پوری وادی کے اطراف و اکناف میں کریک ڈاﺅن، ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لینا اور گھروں کو مسمار ی آئین و قانون کی صریحا ً خلاف ورزی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ جابرانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے بھی منافی ہیں کیونکہ پورے خاندانوں اور برادریوں کو بغیر کسی جرم کے سزا دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکام نے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے شفاف تحقیقات کے بجائے چھاپے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں اور ایک قابل اعتبار تفتیشی عمل کی عدم موجودگی نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ انصاف کو یقینی بنانے کے بجائے پولیس اہلکار کے قتل کو پہلے سے طے شدہ فوجی کریک ڈاو¿ن کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
مبصرین نے کہا کہ محض چند روز میں ہزاروں لوگوں کی حراست اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ گرفتاریوں کی فہرستیں پہلے سے تیار تھیں ۔انہوں نے رہائشی مکانات کی مسماری کو بھی کریک ڈاو¿ن کا ایک اور پریشان کن پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کے بغیر گھروں کو تباہ کرنا قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شفاف قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے میں ناکامی نے اس عوامی تاثر کو تقویت دی ہے کہ قابض حکام انصاف کی فراہمی کے بجائے مقامی آبادی کو کنٹرول کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
مبصرین نے کہا کہ بھارتی حکومت کو اس وقت دلی اور ملک کے دیگر علاقوں میں طلباءکے مظاہروں کا بھی سامنا ہے جس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس نے مقبوضہ علاقے میں بیگناہ لوگوں کے خلاف آپریشن تیز کردیا۔مبصرین نے کہا کہ جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کا احساس محرومی مزید گہرا ہوتا ہے ، بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ وحشیانہ کارروائیوں سے کشمیری نہ ماضی میںمرعوب ہوئے ہیں او رنہ آئندہ ہونگے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے استعماری اقدامات اور توسیع پسندانہ عزائم کا نوٹس لے اور مقبوضہ علاقے میں جابرانہ کارروائیوں کے خاتمے اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اس پر دباﺅ ڈالے جو جنوبی ایشیا میں امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرے کا باعث ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button