بھارت :بہارمیں مدرسوں کے اساتذہ کو شدیدمشکلات کا سامنا ، حکومت نے چھ ماہ سے تنخواہیں روک رکھی ہیں
پٹنہ: بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست بہار میں سرکاری امدادسے چلنے والے مدارس کے اساتذہ کوامتیازی سلوک اور انتظامی غفلت کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے گزشتہ چھ ماہ سے ان کی تنخواہیں روک رکھی ہیں جس کے باعث وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پورے نہیں کرپاتے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق باربار احتجاج اور ریاستی وزراءاور ارکان اسمبلی سے درخواستوںکے باوجود حکومت نے ابھی تک زیر التواءتنخواہیں جاری نہیں کیں جس سے اساتذہ کی پریشانیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔بہار کیمدرسہ ٹیچرز اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (MTWS) کے جنرل سکریٹری زاہد الرحمن نے کہا کہ طویل عرصے سے تنخواہوں کی روک تھام نے بہت سے اساتذہ کو قرض اور شدید مالی مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ کے زیادہ تر اساتذہ کا تعلق کم آمدنی والے خاندانوں سے ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی کفالت کے لیے مکمل طور پر اپنی تنخواہوں پر انحصار کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بہت سے اساتذہ قرضہ لینے پر مجبور ہوئے جبکہ بینک کے اہلکار ان پر قرضوں کی ادائیگی کے لیے دباو¿ ڈال رہے ہیں اور دکانداروں نے انہیںسودہ دینا بند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اپنے بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور دیگر ضروریات پوری نہیں کرپارہے ہیں۔ زاہدالرحمن نے تنخواہیں روکنے کو مدارس کے اساتذہ کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر مدارس کی انکوائری تک ادائیگی روک دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل انکوائری مکمل ہو چکی ہے لیکن حکومت نے ابھی تک اساتذہ کی تنخواہیں جاری نہیں کیں۔قبل ازیں مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایم ڈی او) نے پٹنہ میں مدارس کے اساتذہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی۔ ایم ڈی او کے ریاستی ترجمان منظیر الاسلام نے کہا کہ چھ ماہ سے تنخواہوں کا انتظار کرنے والے اساتذہ کی حالت زار کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے رواں ماہ کے آخر تک اساتذہ کے مطالبات پر کوئی مثبت فیصلہ نہ کیا تو تنظیم احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہو گی۔






