آزاد کشمیر

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اورمذہب سے بندھا ہواہے: صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے درمیان صدیوں پرانہ رشتہ مشترکہ تاریخ، ثقافت، مذہب اور روایات سے بندھا ہوا ہے اورکشمیری قیادت کی 19 جولائی 1947 کی قرارداد اس کا سیاسی اظہارتھاجس میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیاگیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق چوہدری لطیف اکبر نے ہائی کورٹ گراو¿نڈ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنے حق خودارادیت سے انکار کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔تقریب میں وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور، وزیر سید بازل علی نقوی، چیف سیکرٹری خوشحال خان، اعلیٰ سول و عسکری حکام، سیاسی و سماجی رہنماو¿ں، طلبائ، وکلائ، خواتین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پرسائرن بجایا گیا اور شرکاءنے شہداءکی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر نے پاکستانی پرچم لہرایا اور پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ تاریخی قرارداد پاکستان کے ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرنے سے پہلے ہی کشمیری عوام کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برطانوی نوآبادیاتی حکام اور بھارتی قیادت کی سازشوں اور چالبازیوں سے ایک سنگین انسانی المیہ پیدا ہوا جو آج بھی خطے میں کشیدگی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے حل طلب تنازعہ کشمیر نے جنوبی ایشیا کو دنیا کے سب سے خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹس میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کا پرامن اوردیرپا حل علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے صدر نے کہا کہ کشمیریوں کی کئی نسلوں نے جدوجہد کے دوران بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی اور برہان وانی مزاحمت اور قربانی کی علامت بن چکے ہیں جبکہ شبیر شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی آج بھی بھارتی جیلوں میں نظربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر صرف سیاسی رہنماو¿ں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں، طلبائ، ماہرین تعلیم، تاجروں اور کاروباری افراد کو بھی دھمکیوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چوہدری لطیف اکبر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام پاکستانی عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے ہیں اوران کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھے اور تنازعہ کشمیر کے جلد اور منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے پاکستان کے استحکام، خوشحالی اور سلامتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جلد آزادی کے لئے دعا کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button