منی پور: مردم شماری سے قبل شہریوں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کے حق میں مظاہرہ
بشنو پور: شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور کے ضلع بشنوپور کے علاقے ننگتھوکھونگ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ریلی کے شرکا نے ریاست میں مردم شماری سے قبل 1951کی بنیاد پر شہریوں کے قومی رجسٹرکو اپ ڈیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریلی کا انعقاد یلہومی لوکتک پروجیکٹ ایریا اپونبا چنگ تام نے منصفانہ حلقہ بندیوں کی مہم کے تحت کیا تھا۔ ریلی میں مختلف مقامی برادریوں کے اراکین بشمول میتی، میتی پنگل اور ناگا قبائل نے شرکت کی۔مظاہرین نے وزیر داخلہ کونتھوجام گوونداس کے ذریعے وزیر اعلیٰ یومن کھیم چند سنگھ کو ایک یادداشت پیش کی ۔ریاستی حکومت کے اعلان کے باوجود کہ حکومت نے منی پور میں مردم شماری کو موخر کر دیا ہے مظاہرین نے ریلی نکالی۔ 12ویں منی پور قانون ساز اسمبلی کے جاری آٹھویں اجلاس کے دوران، ایوان نے اپنی سابقہ قرارداد کی توثیق کی جس میں حکومت پر مردم شماری سے قبل شہریوں کے قومی رجسٹرکو اپ ڈیٹ کرنے پر زوردیاگیا۔تاہم مظاہرین کاکہناتھا کہ شہریوں کے قومی رجسٹر کے بارے میں حکومت کی پوزیشن، خاص طور پر بیس سال اور اس کے نفاذ کی ٹائم لائن کے بارے میں ابھی تک کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔ریلی میں شامل ایک شخص نے میڈیا کو بتایاکہ ریاست کے عوام مردم شماری سے پہلے 1951کو بنیادی سال کے طور پرشہریوں کے قومی رجسٹر کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے ریاستی حکومت اس مطالبے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے۔ ہم اس وقت تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے جب تک کہ مردم شماری سے پہلے 1951کو بنیادی سال کے طور پر این آر سی کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا۔یادداشت میں مظاہرین نے آبادی میں غیر معمولی اضافہ، غیر تسلیم شدہ دیہات اور وسائل کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ این آر سی اپڈیٹ کرنے کا ان کا مطالبہ مقامی برادریوں کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔







