بھارتی ویمنز ٹیم کا ایشیا کپ کا ٹائٹل جیت کر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار
اسلام آباد: بھارتی ویمنز ٹیم نے ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن سری لنکا کو 72رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا، تاہم بھارت نے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔
دبئی میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنائے۔ اوپنرز شفالی ورما اور سمرتی مندھنا نے 129رنز کی شراکت قائم کی، شفالی نے 68جبکہ مندھنا نے 59 رنز بنائے۔ رچا گھوش نے 17اور کپتان ہرمن پریت کور نے 14رنز اسکور کیے۔سری لنکا کی جانب سے متھالی ایودھیا، چماری اتاپتو اور چمودی پرابودا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔184 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم 20ویں اوور کی آخری گیند پر 111رنز بنا کر آل آوٹ ہوگئی۔ کپتان چماری اتاپتو نے 36جبکہ نیلاک شیکا سلوا نے 22رنز بنائے۔بھارت کی جانب سے شری چرانی نے 4 اور دپتی شرما نے 3 وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم بھارت نے ایک بار پھر اسپورٹس اسپرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ویمنز ایشیاکپ بھی متنازعہ بنا دیا۔ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی ویمنز ایشیاکپ فائنل کے مہمان خصوصی تھے تاہم بھارتی ویمن کرکٹ ٹیم نے ٹائٹل جیتنے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارت کی مینز کرکٹ ٹیم نے صدر اے سی سی محسن نقوی سے کپ لینے سے انکار کر دیا تھا۔
کرکٹ ماہرین اور شائقین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے ایک بار پھر اپنی سیاسی دشمنی کو کرکٹ کے میدان میں لے جاکر کھیلوں کے ایک موقع کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ٹورنامنٹ کی انتظامی اتھارٹی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کھیلوں کے جذبے کے منافی ہے، بلکہ یہ مودی کے اندھے پیروکاروں میں سستی مقبولیت حاصل کرنے کی ایک سیاسی چال ہے۔ انہوں نے عالمی کرکٹ برادری پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے، کیونکہ اگر کسی مخصوص گروہ یا ملک کے سیاسی مفادات کو کھیلوں پر حاوی ہونے کی اجازت دی گئی تو بین الاقوامی کرکٹ کی ساکھ اور وقار متاثر ہوگا۔کرکٹ شائقین نے زور دیا کہ بین الاقوامی کرکٹ اداروں کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ٹیم، خواہ اس کا حجم، اثر و رسوخ یا تجارتی طاقت کچھ بھی ہو، کھیلوں کے یکساں معیار کو برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میچ جیت گیا ہو گا، لیکن ٹرافی کی تقریب میں گندی سیاست کو گھسیٹ کر لانے سے بھارتی رویے کا ایک افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کھلاڑیوں اور شائقین کا کھیل ہے، سیاسی دشمنیوں کا میدان نہیں۔







