مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے،حریت کانفرنس

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کا جموں و کشمیر پر مسلسل غیرقانونی قبضہ اور کشمیری عوام کے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کااحترام کرنے سے انکارکی وجہ کشمیر کا تنازعہ مسلسل حل طلب ہے اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی کو ششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اور جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکار خطے میں جاری کشیدگی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
حریت ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے دباؤ ڈالے، اور اس بات پر زور دیا کہ ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری، جیسا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں کہاگیا ہے،تنازعے کے پرامن حل کے لیے واضح روڈ میپ ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ دہائیوں بعد بھی کشمیری اپنے حقِ خود ارادیت کے حصول کے منتظر ہیں، جبکہ کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق دینے سے بھارت کامسلسل انکار اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کشمیر کے تنازعے کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کئے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔
ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے، مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور بڑے پیمانے پر سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کے باعث کشمیریوں کی مشکلات میں تیزی سے اضافی ہواہے
انہوں نے غیر قانونی طور پر نظربندی تمام کشمیری سیاسی قیدیوں بشمول حریت قیادت کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھارتی حکومت فوجی طاقت اور کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی سیاسی خواہشات کو دبا نہیں سکتی۔
حریت ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بی جے پی حکومت کے فرقہ وارانہ ہندوتوا ایجنڈے، جابرانہ پالیسیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو طول دینے کے اقدامات کو بے نقاب کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری 81ویں اجلاس میں فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
حریت ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اخلاقی اور قانونی زمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے دیرینہ تنازعے کو اپنی متعلقہقراردادوں کے مطابق حل کرنے میں مدد دے، اور عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودگی سنگین صورتحال پر اپنی خاموشی توڑے۔
ا۔ہوں نے مزیدکہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کاتناسب تبدیل کر کے مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہو۔ نےاقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ اور دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
حریت ترجمان نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی کوششوں کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارتی فوجی قبضے کے تحت بدترین مشکلات کا سامنا ہے، اس کے باوجود انہوں ہمیشہ امن اور بات چیت کی وکالت کی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیرکی سنگین انسانی صورتحال کافوری نوٹس لے اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل نہ ہو۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے جوابدہی کا بھی مطالبہ کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button