بھارت : اتر پردیش میں دلت نوجوان کی پولیس حراست میں موت
زیرحراست افراد کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ
لکھنو:بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش میں ضلع پرتاپ گڑھ کے ایک پولیس تھانے میں ایک 22 سالہ دلت نوجوان کی دوران حراست موت ہوگئی جس سے زیرحراست افراد کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پولیس حراست میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوا، جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے خودکشی کی۔مولناپور کا رہائشی ارجن گوتم ایک نوعمر لڑکی کے مبینہ اغوا سے متعلق مقدمے میں پوچھ گچھ کے لیے اتوار کو پٹی پولیس تھانے لایا گیا تھا۔ اگلے روز اس کی لاش تفتیشی کمرے کے بیت الخلا میں پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ پولیس نے بتایا کہ اس نے کمبل کی مدد سے پھندا لگا کر خودکشی کی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق لڑکی کے بھائی نے ابتدائی طور پر جولائی میں ارجن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اس پر اپنی بہن کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم پولیس نے بعد میں لڑکی کو حیدرآباد سے برآمد کر لیا، جہاں اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ اہل خانہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد گھر سے چلی گئی تھی۔ اس کے بیان کے بعد اس وقت ارجن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم لڑکی کے والد نے اگست میں ارجن کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ اس نے ان کی بیٹی کو اغوا کیا ہے۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پٹی پولیس نے ارجن کا سراغ لگایا اور اتوار کو اسے پولیس تھانے لے آئی۔
ارجن کے اہل خانہ نے بتایا کہ پولیس نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بے ہوشی کی حالت میں ملنے کے بعد اسے پولیس تھانے سے تقریباً 700 میٹر دور واقع کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جانے کے بجائے تقریباً 25 کلومیٹر دور میڈیکل کالج کیوں لے جایا گیا۔اہل خانہ نے بتایا کہ ان کو مطلع کئے بغیر اس کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس تھانے اور جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے اور اس کی موت کی آزادانہ تحقیقات کی جائے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آلوک کمار نے کہا کہ ارجن رفع حاجت کے بہانے بیت الخلا گیا اور وہاں خودکشی کر لی۔
پرتاپ گڑھ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپک بھوکر نے فرائض میں غفلت برتنے پر پٹی تھانے کے اسٹیشن ہاو¿س افسر آنند پال سنگھ اور سب انسپکٹر اومکار سنگھ کو معطل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر اہم شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ضلع مجسٹریٹ پرتاپ گڑھ نے واقعے کی مجسٹریل انکوائری کی سفارش کی ہے۔ حکام نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
بھیم آرمی کے سربراہ اور نگینہ کے رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد نے موت کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ارجن دوران حراست کمبل تک کیسے پہنچا اورکوئی شخص کمبل سے خود کو کیسے پھانسی دے سکتا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سوالات کے جواب غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے دیے جائیں۔
بھارت میں پولیس تھانوں کے اندر زیر حراست نوجوانوں بالخصوص اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جس سے زیر حراست افراد کی سلامتی اور پولیس کے احتساب کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے مارچ میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 15 مارچ 2026 کے درمیان ملک بھر میں زیر حراست افراد کی ہلاکت کے 170 واقعات رپورٹ ہوئے جو ملک کے انسانی حقوق کمیشن کی مرتب کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ اس کے علاوہ 2024-25 میں 140، 2023-24 میں 157، 2022-23 میں 163 اور 2021-22 میں 176 ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔






