نئی دہلی میں خود کو پولیس اہلکار ظاہرکرنے والے تین افراد کی نوعمر لڑکی کی اجتماعی عصمت دری
بھارتی دارالحکومت میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ
نئی دہلی:بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ایک پارک میںتین افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے ایک 16 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے بھارت میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
یہ واقعہ پیر کی شام اس وقت پیش آیا جب لڑکی اپنے 17 سالہ مرد دوست کے ہمراہ کالکاجی مندر گئی تھی۔ تقریباً شام ساڑھے سات بجے مندر سے نکلنے کے بعد دونوں قریبی آستھ کنج پارک میں چہل قدمی کے لیے گئے۔پولیس کے مطابق 25 سے 30 سال کی عمر کے تین افراد نوعمر لڑکے اور لڑکی کے پاس گئے اور خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا۔ ان افراد نے دونوں سے پوچھ گچھ کی کہ وہ کہاں گئے تھے اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی جس کے بعد لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک ملزم نے لڑکی کے دوست کو قابو میں رکھا جبکہ دیگر دو افراد نے لڑکی سے جنسی زیادتی کی۔ بعد ازاں وہ موقع سے فرار ہو گئے۔پولیس کو دیے گئے لڑکی کے بیان کے مطابق ایک ملزم نے اس کے دوست کو پکڑے رکھا جبکہ دیگر دو افراد نے باری باری اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ لڑکی کا طبی معائنہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) میں کرایا گیا۔ پولیس نے 18 سال سے کم عمرکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی، مجرمانہ سازش، جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانے اور مجرمانہ دھمکیوں سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ واقعہ دہلی میں نابالغوں کے خلاف جنسی جرائم کے دیگر واقعات کی رپورٹس کے دوران پیش آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دہلی کے صدر بازار میں چھٹی جماعت کی ایک طالبہ کو ایک دکان کے اندر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ 17 سالہ لڑکی کو دہلی کے علاقے سروپ نگر میں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش 13 ستمبر کو برآمد ہوئی تھی۔بھارت میںخواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔دہلی میں عصمت دری کے واقعات سمیت خواتین کے خلاف جرائم کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے جس کے باعث بھارتی دارالحکومت میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ پرمسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔






