اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ جموں وکشمیر کی گونج ، ترک صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی میڈیا سیخ پا
نیویارک: قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بارپھر مسئلہ کشمیر گونج اٹھاہے جبکہ بھارتی میڈیا نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے بیان کردہ موقف پر بات کرنے کے بجائے اپنی توپوں کا رخ پاکستان اور ترکیہ کی جانب کر تے ہوئے ایک نیا پروپیگنڈا شروع کر دیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اقوامِ متحدہ میں تنازعہ کشمیر کی دستاویزی تاریخ 1948سے موجود ہے جس میں جموں وکشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان نے بارہا بین الاقوامی سطح پر مسئلہ جموں وکشمیر اٹھایا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے اندر مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ قریبی سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بارہا کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔
مئی 2025کے بھارت پاکستان تصادم کے دوران اردوان نے عوامی سطح پر پاکستان کے ساتھ ترکی کی یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ ساتھ ہی کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی حمایت بھی کی۔ اسی وجہ سے بھارت میں مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور پاکستان کے لیے ترکی کی حمایت اور کشمیر سے متعلق اس کے بیانات پر بھارتی میڈیا سیخ پا ہے۔
بھارت مسلمان ممالک کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی حالتِ زار اجاگر کرنے سے نہیں روک سکتا۔ ترکیہ مسلسل مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھارہا ہے اور مذاکرات پر زوردے رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا غم و غصہ نہ تو اقوامِ متحدہ میں کشمیر کی تاریخ کو مٹا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حیثیت اور حل کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں کو روک سکتا ہے۔







