مساجد کی مسماری کے خلاف دہلی میں احتجاج سے قبل مسلمان کارکن ندیم خان کو گرفتارکیاگیا
نئی دہلی: بھارت میں مذہبی مقامات پر حملوں اور ان کی مسماری کے خلاف احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے مسلمان کارکن اور ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے سیکرٹری ندیم خان کو گرفتارکر لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اے پی سی آر نے ایک بیان میں ندیم خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔اے پی سی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ندیم خان کو 29 ستمبر 2026 کو صبح ساڑھے نو بجے ان کے دفتر سے دہلی پولیس نے گرفتارکیا۔ یہ کارروائی بھارتی مسلمانوں کی اقلیتی کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال دیے جانے کے بعد کی گئی۔ ندیم خان کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لئے گرفتارکیاگیا۔بیان میں کہا گیا کہ ان کی گرفتاری سے پ±رامن احتجاج پر پابندیوں اور کارکنوں کی عوامی مظاہروں میں شرکت کی آزادی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کی اقلیتی کمیٹی (MCIM) نے منگل کے روز دہلی کے جنتر منتر پر مذہبی مقامات پر حملوں اور ان کی مسماری کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔احتجاج کی اپیل میں خان نے کہا تھا”جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اب مذہبی مقامات کے خلاف بلڈوزر کارروائی کی جا رہی ہے۔ خواہ وہ مسجد ہو، مدرسہ ہو یا مزار، ان تمام مقامات پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ آپ نے سہارنپور مسجد کا معاملہ سنا ہوگا جسے سیلنگ کے نام پر بلڈوز کر دیا گیا۔ اس کے بعد دہلی کے شالیمار باغ میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔“ انہوں نے اتر پردیش، گجرات اور اتراکھنڈ میں پیش آنے والے واقعات کی نشاندہی کی جہاں مساجد یا مدارس کو سیل یا مسمار کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ مذہبی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر عدالتوں کی خاموشی ایک بڑا سوال ہے۔ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 29 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے جنتر منتر پر جمع ہوں، مسماری کے خلاف احتجاج کریں اور ایسی کارروائیوں کے ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفرالاسلام خان، معروف عالم دین مولانا سجاد نعمانی، ممتاز مسیحی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن جان دیا، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اور دیگر نے بھی احتجاج کی کال کی حمایت کی۔
ندیم خان کی گرفتاری کے باوجود جنتر منتر پر احتجاج کیا گیا۔ احتجاجی مقام پر سماج وادی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اقرا چودھری اور ضیاءالرحمٰن برق سمیت متعدد مظاہرین کو بھی گرفتارکیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن سمیت کارکنوں نے خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دہلی پولیس کھلے عام غیر قانونی کام کر رہی ہے۔






