بھارت :کانگریس پارٹی کا گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر روکنے کا مطالبہ
ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ناموں کو بحال کرنے پر زور
نئی دہلی: بھارت میں کانگریس پارٹی کی ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس نے ملک میں جاری ووٹر فہرستوںکی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو فوری طور پر معطل کرنے اور اس عمل کے دوران ووٹر فہرستوںسے خارج کیے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ناموں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب سے منظورکی گئیقرارداد میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ایس آئی آر کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رپورٹس سے اس کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے دور میں الیکشن کمیشن کے کام کاج پر حکمران جماعت اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اثر بڑھا ہے۔قرارداد میں کانگریس نے پارٹی رہنما راہل گاندھی کی جانب سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ پارٹی نے ای وی ایم کے قابلِ اعتمادہونے، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے طریقہ کار، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقہ کار اور انہیں حاصل قانونی تحفظ جیسے معاملات پر بھی تشویش کااظہارکیا۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراضات درج کرائے۔ ان میں ایس آئی آر کے دوران استعمال ہونے والے فارم6 میں کی گئی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست کے ذریعے گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں اور ایس آئی آر کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔
قرارداد میں کانگریس نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ووٹرز پر اپنی اہلیت ثابت کرنے کا بوجھ ڈال دیا جائے اور شفاف حفاظتی انتظامات کے بغیر بڑی تعداد میں نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جائیں تو یہ آئین کے آرٹیکل 14 میں دی گئی مساوات اور آرٹیکل 326 کے تحت بالغ رائے دہی کے اصول سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔






