جیلوں میں قید کشمیری نوجوانوں کا مستقبل بری طرح متاثر ہو رہاہے۔ فاروق عبداللہ
یونین ٹیریٹری کا نظام عوامی مفادات میں رکاوٹ بن رہا ہے ، سربراہ نیشنل کانفرنس
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بہت سے کشمیری نوجوان برسوں سے جیلوں میں قید ہیں جس سے ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ نوجوانوں کو پاسپورٹ اور ملازمت کے لیے تصدیقی عمل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ یاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے بھارتی حکومت کی عدم سنجیدگی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘یونین ٹیریٹری’ کا نظام عوامی مفادات میں رکاوٹ بن رہا ہے اور عام شہریوں، ملازمین، تاجروں، نوجوانوں، دستکاروں، کسانوں اور باغبانوں کے مسائل کے حل میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت دیہاڑی دار ملازمین کو مستقل کرنے، ریزرویشن کے نظام کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تیز رفتار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن ‘یونین ٹیریٹری’ کا نظام اس راہ میں بھی متعدد رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل براہِ راست ریاستی حیثیت کی بحالی سے جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کی فوری بحالی ایک اشد ضرورت بن گئی ہے۔





