مضامین

370 اور 35A سے ریاستی حیثیت تک، جموں و کشمیر کی سیاست پھر ایکبار فیصلہ کن موڑ پر

محمد شہباز

جموں و کشمیر 1989ء سے ویسے ہی بھرپور خبروں میں ہے اور پھر اہل کشمیر کی لازوال قربانیوں اور بے مثال جدوجہد نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے سے نکال کر ایک عالمی مسئلہ بنادیا ہے ۔ بھارتی حکمران مسئلہ کشمیر کو تمام تر حربوں اور ہتھکنڈوں کے باوجود نہ عالمی فورموں پر اجاگر کرنے سے روک سکے اور نہ اہل کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت اور دوسرا کشمیری عوام کی اس تنازعے کیساتھ براہ راست وابستگی اور تعلق ۔ چونکہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی سطح پر مسلمہ ایک متنازع مسئلہ کے طور پر موجود ہے، جبکہ کشمیری عوام اس تنازع سے براہِ راست وابستہ ہیں۔

05اگست 2019 کو مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے دو بنیادی آرٹیکلز 370اور 35 اے کو منسوخ کرکے سب سے بڑی آئینی جارحیت کی ۔ یہ دونوں آئینی دفعات نہ صرف کشمیری عوام کو بھرپور آئینی تحفظ فراہم بلکہ غیر ریاستی افراد مقبوضہ جموں وکشمیر میں جائیداد واملاک کی خریدوفروخت نہیں کرسکتے تھے یوں اہل کشمیر کو اپنی زمینوں کا مکمل تحفظ میسر تھا۔ یہی آئینی تحفظ مودی اور اس کے قبیل کو کھٹکتا تھا ۔ چونکہ مودی آر ایس ایس کا بنیادی ممبر رہ چکا ہے جو ہٹلر کی پیروکار ہے اور پھر صیہونی اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں زمینوں پر قبضہ اور اہل فلسطین کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی مجرمانہ پالیسی پر مودی کاربند ہے لہذا کشمیری عوام کی زمینوں کو ہڑپنے کیلئے آرٹیکل 370 اور 35 اے جو کہ فائر وال کی مانند تھے ان کا خاتمہ ناگزیر تھا۔

اہل کشمیر کی زبان بندی اور ان کی سانسوں پر پہرے بٹھائے گئے ۔ 05اگست 2019 کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو بندوق کے بل پر مسلط اور نافذ کرنے کیلئے ہزاروں کشمیری نوجوان، بزرگ، خواتین اور آزادی پسند رہنما گرفتار کرکے بھارتی جیلوں میں قید کیے گئے، پبلک سیفٹی ایکٹ PSA کا تو پہلے سے مقبوضہ خطے میں نفاذ بڑی شدت کیساتھ جاری تھا البتہ اہل کشمیر کا گلا گھونٹنے کیلئے ایک اور کالا اور سفاکانہ قانون UAPA کا نفاذ بھی ضروری سمجھا گیا اور سینکڑوں کشمیری اس کالے قانون کے تحت قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہے ہیں۔
2024 میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انتخابات کرائے گئے۔ نیشنل کانفرنس نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کواپنے انتخابی منشور میں سرفہرست رکھا ۔اہل کشمیر کو یہ سبز باغ بھی دیکھائے گئے کہ اقتدار میں آکر پہلے ہی دن ریاستی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرکے دونوں دفعات کی بحالی کی بنیاد رکھی جائے گی ۔وقت بڑی تیزی سے آگے بڑھا ۔ سات برس پلک جھپک میں گزر گئے اور شیخ خاندان حسبہ سابق جو اپنے وعدوں سے مکرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا اہل کشمیر کیساتھ کیے گئے وعدے بھول گیا اور جب بھی فاروق و عمر عبداللہ کو انتخابی منشور یاد دلانے کی کوشش کی جارہی تھی تو جواب State Hood سے آگے نہیں بڑھ پارہا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے اندر سے ایک توانا آواز بغاوت کی صورت میں پھوٹ پڑی۔ بھارتی ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے کھل کر عمر عبداللہ اور اس کی حکومت کے خلاف طبل جنگ بجادیا۔ روح اللہ مہدی نے پارٹی اور عمر عبداللہ حکومت کے مؤقف پر کھل کر تنقید کی۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ پارٹی نے انتخابی وعدوں کے مطابق دفعہ 370 اور 35A کے معاملے کو مطلوبہ شدت سے نہیں اٹھایا۔ یوں نیشنل کانفرنس اور روح اللہ کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع تر ہوتی چلی گئ۔ جس سے پاٹنا ممکن نہیں رہا۔ گھر کے اندر سے پھوٹنے والی بغاوت نے نیشنلی حکومت کو کمزور وکٹ پر لاکھڑا کیا اور پھر فاروق عبداللہ آغا مہدی کی تنقید کا وار نہ سہ سکا اور اس نے طنزا یہ جملہ کہا کہ آغا روح اللہ پارلیمنٹ نشست سے مستعفی ہوکر اپنے بل بوتے پر الیکشن جیت کر دکھائیں اور 370 اور 35 کی بحالی کیلئے لڑائی لڑکر دکھائیں۔ آغا روح اللہ نے اس کے جواب میں ایک انٹرویو میں 03 نومبر کو بھارتی پارلیمنٹ کی نشست سے مستعفی اور نیشنل کانفرنس سے بھی علیحدگی کا اعلان کردیا۔ شاید یہ اعلان غیر متوقع تھا ۔یہ بلاشبہ پاپولسٹ فیصلہ ہے اور اہل کشمیر جو بھارت کے خلاف ہر چھوٹے بڑے اقدامات کا اثر فورا قبول کرتے ہیں۔اس اعلان کا بھی کشمیری حلقوں میں خیر مقدم کیا گیا۔
یہ روح اللہ مہدی کے دباو کا نتیجہ ہے کہ 25 ستمبر کو عمر عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرکے اس میں ریاستی حیثیت بحال کرنے کیساتھ ساتھ سن 2000 میں فاروق عبداللہ حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی قرارداد اور اس میں 1953 پوزیشن بحالی کا بھی ذکر کیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے دس ارکان کی جانب سے دفعہ 370 اور 35A سے متعلق اضافی نکات شامل کیے جانے سے قرارداد کا دائرہ محض ریاستی حیثیت کی بحالی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں و کشمیر کے سابقہ آئینی انتظام اور نئی دہلی کیساتھ تعلقات بھی دوبارہ سیاسی بحث کا موضوع بن گئے۔

ریاستی قانون ساز اسمبلی میں بھارتی بیوروکریسی اور 29 ہندوتوا بی جے پی ارکان کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظوری کے بعد جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات پھر ایکبار سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ بی جے پی ارکان نے خاص طور پر قرارداد میں 05 اگست 2019 اور 1953سے قبل کی سیاسی و آئینی حیثیت کے حوالہ جات پر شدید ہنگامہ آرائی کی۔ اسمبلی عملا مچھلی منڈی کا منظر پیش اور دونوں اطراف اراکین گھتم گھتا ہوگئے۔ بی جے پی کے احتجاج اور واک آئوٹ کے باوجود قرارداد 28ستمبر کو منظور کرلی گئی۔
ریاستی چیف سیکریٹری اتل ڈلو اور محکمہ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے کمشنر سیکریٹری اچل سیٹھی نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو الگ الگ خطوط میں معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہونے کا جواز پیش کر کے اس پرایوان میں بحث نہ کرانے کی درخواست کی تھی۔ جس پر اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بیوروکریسی کی جانب سے ایوان کے معاملات میں اس نوعیت کی مداخلت پر سوال اٹھایا جبکہ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ انہیں ان خطوط کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا۔

دسمبر 2023ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے دفعہ 370 سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 05اگست 2019ء میں بھارتی حکومت کی جانب سے خصوصی حیثیت کی ۹منسوخی کے اقدامات کو برقرار رکھا تھا، تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے کو الگ حیثیت سے دیکھا۔ چنانچہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاست میں بدستور ایک اہم مسئلہ ہے۔
حالیہ اسمبلی قرارداد میں 1953ء سے قبل کی سیاسی و آئینی مطالبات کے حوالوں نے بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ قانونی اور سیاسی حلقے ان حوالوں کو جموں و کشمیر کے سابقہ آئینی انتظام کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جبکہ بی جے پی نے ان پر شدید اعتراض کیا ہے۔ اس نئی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں بحث اب صرف ریاستی حیثیت کی بحالی تک محدود نہیں رہی بلکہ خطے کی سابقہ آئینی حیثیت، سیاسی حقوق اور مستقبل کے سیاسی بندوبست کے سوالات بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔
کشمیری سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ محض ریاستی حیثیت کی بحالی کشمیری عوام کی تمام سیاسی خواہشات کا احاطہ نہیں کرتی اور جموں و کشمیر کے تنازع کے کسی بھی حتمی حل میں کشمیری عوام کی خواہشات اور سیاسی حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال بھی بدستور ایک اہم مسئلہ ہے۔ گرفتاریوں، جائیداد و املاک کی ضبطی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، آبادی کے تناسب میں ممکنہ تبدیلی اور ماورائے عدالت قتل پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف سیاسی حلقے مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے املاک کی ضبطی اور مسلمان سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیے جانے کے ظالمانہ اقدامات بھی سیاسی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
یوں قانون ساز اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد نے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت، ریاستی درجہ، سابقہ آئینی انتظام اور خطے کے سیاسی مستقبل سے متعلق اختلافات کو پھر ایک مرتبہ نمایاں کردیا ہے۔ یہ بحث اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ05اگست 2019ء کے بعد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی آئینی اور سیاسی صورتحال ابھی تک مکمل طور پر حل طلب ہے۔

جموں و کشمیر کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آئینی دفعات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے، ریاستی حیثیت چھینی جاسکتی ہے، سیاسی آوازوں کو طاقت کے بل پر دبایا جاسکتا ہے اور دس لاکھ بندوقوں سے وقتی خاموشی مسلط کی جاسکتی ہے، مگر کسی قوم کے سیاسی شعور، ان کی شناخت سے وابستگی اور اپنے مستقبل کے حقِ انتخاب کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ 5 اگست 2019ء کے اقدامات کے بعد گزرنے والا عرصہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر محض دفعات، نشستوں، انتخابات یا ریاستی حیثیت کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے سیاسی مستقبل، بنیادی حقوق اور دیرینہ خواہشات سے جڑا ایک زندہ حقیقت ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ طاقت، جبر اور انتظامی فیصلوں کے بجائے تاریخ، حقائق اور کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کیا جائے، کیونکہ پائیدار امن کسی مسئلے کو دبانے سے نہیں، بلکہ اس کے منصفانہ اور قابلِ قبول حل کی کوکھ سے جنم لیتا ہے، اور جموں و کشمیر کے دیرپا حل کی کنجی بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔جس سے بھارتی حکمران باالخصوص مودی فرار کے راستے پر گامزن ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button