سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے طلباء کا طالبہ کو ہراساں کیے جانے پر احتجاج
سرینگر: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے طلباء نے ضلع گاندربل یونیورسٹی کیمپس میں شعبہ کیمسٹری کے سربراہ ڈاکٹر چناپن بھاسکر کی جانب سے ایک طالبہ کو ہراساں کیے جانے کے خلاف اجتھج کیا۔
احتجاج کرنے والے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور شعبہ کے سربراہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔
طلباء کا کہنا تھا کہ شعبہ کا سربراہ کئی ماہ سے کلاسوں کے دوران نازیبا زبان کا استعمال اور ایک طالبہ کو ہراساں کررہاتھا۔
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے رجسٹرار، پروفیسر نثار احمد میر نے میڈیا م کو بتایا کہ طلباء کی جانب سے کیمپس میں احتجاج اور ڈاکٹر چناپن بھاسکر کے خلاف شکایت جمع کرائے جانے کے بعد یونیورسٹی نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے ڈاکٹر چناپن بھاسکر کو شعبہ کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور شکایت کی تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں ‘ڈین اکیڈمک افیئرز’ کے دفتر سے منسلک کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ انتظامیہ کو طلباء کی جانب سے باضابطہ شکایت موصول ہوئی ہے اور وہ الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں تقرریوں اور انتخاب کے عمل پر سیاسی مصلحتوں اور بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی پالیسیوں کا اثر بڑھ رہا ہے؛ ان کے مطابق یہ پالیسیاں غیر کشمیریو ں کی تقرری کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، بشمول ان لوگوں کے جن کا تعلق بی جے پی یا آر ایس ایس کے نظریے سے سمجھا جاتا ہے۔







