پاکستانی رینجرز اہلکار کے شائستہ رویے کی سوشل میڈیا پر خوب پزیرائی
بھارتی میڈیا نے رینجرز اہلکار کی شائستگی کو پیشہ ور سپاہی کی علامت قرار دیا
اسلام آباد :اٹاری واہگہ سرحد پر پاکستانی رینجرز اہلکار اور بھارتی فوجی افسر کی اہلیہ کے درمیان مختصر مگر قابلِ ذکر ملاقات نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں ناظرین نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ کشیدگی کے باوجود پاکستانی اہلکار کی شائستگی، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ احترام کو سراہا ہے۔
ایک وائرل ویڈیو میں بھارتی فوجی افسر کی اہلیہ کو پاکستانی حدود میں ایک پاکستانی رینجرز اہلکار کے قریب جاکر اس کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اہلکار نے خوش اخلاقی سے درخواست قبول کی اور ان کے ساتھ تصویر بنوائی۔
پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دی ٹریبیون نے اس واقعے کو شائستگی کا ایک مختصر مگر پراثر لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہلکار نے ایک وردی پوش پیشہ ور سپاہی سے متوقع شائستگی اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اخبار نے مزیدلکھا کہ تصویر بنوانے کے بعد رینجرز اہلکار نے سینئر بھارتی فوجی افسر کو دیکھا اور انہیں فوجی انداز میں سلیوٹ کیا، جس کا بھارتی افسر نے بھی جواب دیا۔دی ٹریبیون نے سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے پاکستانی رینجرز اہلکار کو ایک پیشہ ور سپاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے عہدے کا احترام کرتے ہوئے سلیوٹ کیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیاکہ بھارت پاکستان سے قطع نظر سب کے لیے احترام، جبکہ ایک اور صارف نے فوجی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کے مظاہرے اور قومیت سے قطع نظر سینئر افسران کے احترام کو سراہا۔
بھارتی نیوز آوٹ لیٹ آر این اے نے بھی 4 اکتوبر کو اس واقعے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی افسر کی اہلیہ نے پاکستانی اہلکار سے تصویر بنوانے کی درخواست کی اور رینجرز اہلکار شائستگی سے تصویر کے لیے کھڑا ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق بعد ازاں بھارتی افسر پاکستانی اہلکار کی جانب متوجہ ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو سلیوٹ کیا۔بھارتی میڈیا نے اس ملاقات کو نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ آر این اے نے نشاندہی کی کہ سفارتی اور فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے وردی پوش اہلکار رسمی فوجی آداب کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ رپورٹ نے اس ویڈیو کو کسی سیاسی یا سفارتی رابطے کے بجائے فوجی شائستگی کے ایک مختصر مظاہرے کے طور پر بیان کیا۔
اس واقعے نے بھارتی میڈیا میں فوجی فرائض اور ذاتی دشمنی کے درمیان فرق پر بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ دی ٹریبیون نے کہا کہ اس ملاقات نے ظاہر کیا کہ پیشہ ورانہ فرائض سے شائستگی، وقار یا انسانیت ختم نہیں ہوتی۔







