بھارت امریکا تجارتی مذاکرات تعطل کا شکارہیں ، نرملا سیتارمن
بھارتی وزیر خزانہ کا میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر اعتراف
نئی دہلی: بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اعتراف کیاہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات کئی ماہ جاری رہنے کے باوجود تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نرملا سیتارمن نے نئی دہلی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پربات چیت جاری ہے، تاہم بعض معاملات پر پیش رفت مشکل ہوگئی ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ مذاکرات ایک ایسے مرحلے پر پہنچ کر رک گئے ہیں جہاں مزید رعایت دینا یا حاصل کرنا دونوں فریقوں کیلئے انتہائی مشکل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ”رائٹرز” کے مطابق نرمیلا سیتا رمن نے بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات میں تجارتی عدم توازن کو ایک اہم پہلو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس عدم توازن کو کم اورکئی برسوں کے دوران جمع ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہتا ہے ۔
دونوں ممالک نے فروری میں ایک ابتدائی مفاہمت کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت امریکا نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 18فیصد تک کم کرنے جبکہ بھارت نے صنعتی اور زرعی مصنوعات کی ایک حد پر درآمدی ڈیوٹیز کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بعد ازاں متعدد مذاکراتی ادوار ہوئے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے بھارت سمیت کئی ممالک کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات شروع کیے جانے سے بات چیت مزید پیچیدہ ہوگئی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کے اعلان کا فوری امکان نہیں، تاہم دونوں ممالک نے ان معاملات کی نشاندہی کرلی ہے جن پر اختلافات برقرار ہیں۔






