کارگل میں وکلا اور سیاسی قیادت کا مشترکہ احتجاج،کشمیر ہائی کورٹ بنچ کے قیام کا مطالبہ
سرینگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطہ لداخ کے علاقے کارگل میں ہائیکورٹ کے بنچ کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے اور کارگل بار ایسوسی ایشن نے سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بار ایسوسی ایشن کارگل کی قیادت میں احتجاج میں لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان، کونسلرز، وکلا اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ٹی ایف سی کارگل سے لال چوک تک مارچ کیا اور انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے حق میں نعرے بلند کیے۔
مارچ سے قبل مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے حال ہی میں صرف لہہ میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کی منظوری امتیازی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارگل اور ملحقہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سائلین، وکلا اور گواہوں کو لہہ تک طویل، مہنگا اور دشوار سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے ساتھ ساتھ لوگوں پر بھاری مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کا بنچ صرف لہہ میں قائم کیا گیا تو کارگل کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ کارگل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر جعفر اخون نے بھی بار ایسوسی ایشن کے جائز مطالبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
بار ایسوسی ایشن نے انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کارگل میں بھی کشمیر ہائی کورٹ کا بنچ قائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ بار نے خبردار کیا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنی جمہوری جدوجہد کے تحت غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
سجاد کارگلی، سید علی موسوی اور ایڈووکیٹ ریاض احمد سمیت دیگر رہنمائوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کارگل کے عوام کے لیے انصاف کو قابل رسائی،سستا اور بروقت بنانے تک اس مطالبے کے حق میں مسلسل اور مربوط جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔







