مقبوضہ جموں و کشمیر

محبوبہ مفتی نے توہین عدالت کو ایک معمول بنانے پر بھارتی عدلیہ پر سوال اٹھا یا

بھارت کی اعلیٰ عدالت کے ریمارکس اکثر حتمی فیصلوں سے مختلف ہوتے ہیں

سرینگر: بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے الیکشن کمیشن کے اقدام کے حوالے سے بظاہر موقف تبدیل کیے جانے کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران توہین عدالت کے زمرے میں آنے والے اقدامات کو ایک معمول بنانے پر بھارتی عدلیہ پر سوال اٹھادیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے اس بیان پر تبصرہ کر رہی تھیں کہ سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے لیے الیکشن کمیشن کے ترمیم شدہ فارم 6 کی منظوری نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران عدلیہ اکثر بڑے بڑے ریمارکس دیتی ہے، لیکن حتمی فیصلے بعض اوقات ان ریمارکس سے مختلف ہوتے ہیں۔
پی ڈی پی سربراہ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہاگزشتہ دس برس کے دوران عدلیہ نے بارہا ایسے اقدامات کو معمول بنایا ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں اور پھر معاملہ آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔ عدالت میں بڑے بڑے ریمارکس دیے جاتے ہیں، لیکن جب فیصلہ سنانے کا وقت آتا ہے تو نتیجہ اکثر ان ریمارکس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔محبوبہ مفتی کا یہ بیان بھارتی سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے متعلق جاری عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button