مقبوضہ جموں و کشمیر

عمر عبداللہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مسترد کر دیا

جموں وکشمیر میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی پر اظہار تشویش

سرینگر : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے علاقے میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذکی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اس قانون کو ا لگ الگ ریاستوں میں نافذ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں پیش کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی کئی دیگر ریاستی حکومتیں بھی اس کے نفاذ کی مخالفت کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس قانون کا مقصد پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کرنا ہو، اس پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے، نہ کہ اسے مختلف ریاستوں کی جانب سے الگ الگ متعارف کرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا اگر ان میں ہمت ہے تو پارلیمنٹ میں قانون لائیں اور وہاں اس پر بحث کریں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ یہ منظور ہوتا ہے یا نہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کے پاس پارلیمنٹ میں اس نوعیت کی قانون سازی منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود نہیں، اسی لیے وہ اسے ان ریاستوں میں مرحلہ وار نافذکر رہی ہے جہاں اس کی حکومت ہے، جو غلط ہے۔انہوں نے کہااگر ہم جمہوریت کو اس کے حقیقی معنوں میں دیکھیں تو اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔
عمر عبداللہ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف حالیہ کارروائی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس وقت نشانہ بنایا جا رہا ہے جب انہیں ان کے وطن میں ظلم و ستم کے بعد یہاں پناہ دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب روہنگیا اپنے ملک سے بے دخل کیے گئے تو ہم نے انہیں یہاں جگہ دی۔ ہم نے انہیں اس وقت تک یہاں رہنے کی اجازت دی جب تک ان کے ملک کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے۔اب اچانک ان کے خلاف کارروائی کیا جانا مجھے عجیب لگتا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ معاملہ ان کی حکومت کے اختیار سے باہر ہے کیونکہ کارروائی بھارتی حکومت کی جانب سے پولیس کی معاونت سے کی جا رہی ہے اورپولیس بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔
ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف انڈیا بلاک کی مہم کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ معاملہ مسلسل اٹھایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button