بھارت میں حقِ رائے دہی کو انسانی حق تسلیم نہیں کیا جاتا: چیئرمین انسانی حقوق کمیشن
پٹنہ:بھارت میں انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس وی راماسبرامنیم نے کہا ہے کہ بھارت میں حقِ رائے دہی کو انسانی حق تسلیم نہیں کیا جاتا، حالانکہ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن میں اسے تسلیم کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس وی راماسبرامنیم نے پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 1954سے حقِ رائے دہی کو قانونی حق قرار دے رکھا ہے، تاہم اس معاملے پر اب بھی ملک میں بحث جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے تحت ملک کے نظم و نسق میں حصہ لینے کے حق کو انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اس میں شرکت کا ایک اہم ذریعہ ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کا آرٹیکل 25 بھی ملک کے نظم و نسق میں شرکت کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
راماسبرامنیم نے کہا کہ حقِ رائے دہی کی عالمگیریت کے حوالے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسے بنیادی انسانی حق قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق، اگر ووٹ ڈالنے کا حق انسانی حق ہے تو اسے تمام افراد کے لیے دستیاب ہونا چاہیے، جبکہ قانونی حق کی صورت میں اس پر مخصوص شرائط لاگو ہوتی ہیں، مثلا عمر 18سال سے زیادہ ہونا اور کسی علاقے میں رہائش پذیر ہونا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے ذریعے مبینہ طور پر لاکھوں افراد کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کے خلاف نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔








