مقبوضہ جموں و کشمیر

عدالت نے ڈوڈہ کے65سالہ شخص کی کالے قانون کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دے دی

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام کو کالے قوانین کے من مانے استعمال پر عدالتی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے ڈوڈہ کے ایک 65 سالہ شخص کی نظر بندی کالعدم قرار دے دی۔ اس فیصلے سے مقبوضہ علاقے میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا غلط استعمال ایک بارپھربے نقاب ہوا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ کشمیری شہری کو دبانے کے لیے آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کی گئی۔
جسٹس ایم اے چوہدری نے حبسِ بے جا کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار دین محمد وانی ضلع ڈوڈہ کے علاقے شوریان کے رہائشی ہیں جنہیں نظر بند کیا گیا تھا۔ ان کے بیٹے شہراز حسین وانی نے نظر بندی کے حکم کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
ڈوڈہ کے ضلعی مجسٹریٹ نے 28 اپریل 2026 کو یہ حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر وانی کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی اصول دہرایا کہ امنِ عامہ کو کسی خطرے کے بغیر عام فوجداری الزامات کسی شخص کی نظر بندی کا جواز نہیں بن سکتے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کو ”قانون کے نام پر لاقانونیت“ قرار دیتی ہیں۔ یہ قانون مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک نظر بند رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ 1990 سے اب تک ہزاروں کشمیریوں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر پی ایس اے کے تحت نظربندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button