پاکستان

افغانستان کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کا استعمال روکنے کے لیے ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے، مسعود خان

اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔

سردار مسعود خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کے دفاع کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان رپورٹوں کا حوالہ دیا جن میں افغانستان میں دہشت گرد گروپوں، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ، کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گروپوں کو مالی معاونت، محفوظ پناہ گاہوں، ہتھیاروں اور نقل و حرکت کی آزادی کی مبینہ فراہمی پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور بارہا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے چین، قطر اور ترکی کی شمولیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین نے افغانستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے وسیع تر فریم ورک میں ضم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس وژن میں وسطی ایشیا سے افغانستان کے راستے پاکستان اور آگے بحیرہ عرب تک علاقائی رابطوں کو وسعت دینا شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس تجویز نے اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک تعمیری راستہ پیش کیا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بامعنی پیش رفت کے لیے یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد گروپوں کی نقل مکانی، انہیں غیر مسلح کرنے یا ان کی سرگرمیاں ختم کرنے کے وعدے پورے نہیں ہوئے، جبکہ حملوں میں پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوتے رہے۔

دہشت گردی سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا کو بھی خطرہ ہے

مسعود خان نے کہا کہ افغان سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان، وسطی ایشیا اور وسیع تر علاقائی و بین الاقوامی مفادات کو بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ عسکریت پسند تنظیموں کی حمایت یا انہیں برداشت کرنے سے افغانستان کے اپنے استحکام اور بین الاقوامی شمولیت کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے اور اسے افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں، جن کے ساتھ اس کے دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور خاندانی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع کو فعال رہنا چاہیے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان گہرے انسانی روابط کے حامل پڑوسی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن کا انحصار سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے، پاکستان کی خودمختاری کے احترام اور علاقائی روابط و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button