بھارت

بھارت :کاکروچ جنتا پارٹی کے بعد انڈیا بلاک کا سپریم کورٹ مارچ، کئی میٹرو اسٹیشنز بند، سکیورٹی سخت

نئی دہلی:بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریںلوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نوجوانوں، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے گروپوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے اورآج (12 اکتوبر)کو سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔   مارچ کا مقصد بھارتی چیف جسٹس کو ایک یادداشت پیش کرنا ہے جس میں ووٹ چوری کو روکنے، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت گزشتہ دو دنوں کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)کی طرف سے گیانیش کمار کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے دوران نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
جیسے ہی احتجاج کا سلسلہ بڑھابھارتی سپریم کورٹ نے ایک خصوصی سماعت کے دوران حکم دیا کہ پرامن طریقے سے جمع ہونے والے لوگوں کو حراست میں نہ لیا جائے اور انتظامیہ ٹریفک قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اتوار کو نعرے بازی کرتے ہوئے جنتر منتر کی طرف بڑھنے والے 100سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے کئی کو پولیس بسوں میں زبردستی بٹھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA)اور کرانتی کاری یووا سنگٹھن (KYS)سمیت کئی طلبہ تنظیموں کے اراکین کو سی جے پی کے حامیوں کے ساتھ اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ نئی دہلی کے مختلف حصوں سے جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔بھارتی پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لئے دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں جبکہ کئی میٹرو سٹیشنوں کو بند کیاگیاہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی دوران بھارت کے چیف جسٹس،جسٹس سوریا کانت نے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے نمائندگی کی دستاویز سونپنے کے لیے انڈیا (INDIA) بلاک کے رہنماوں کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت کے زیرِ غور ہے، اس لیے رہنماوں کو باقاعدہ پٹیشن دائر کر کے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button