نئی دہلی میں مسلح دستوں کی تعیناتی میں مزید 30دن کی توسیع
انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کیخلاف احتجاج سے نمٹے کیلئے 26ہزار اہلکار تعینات
نئی دہلی:بھارتی حکومت نے دارلحکومت نئی دہلی میں مسلح پولیس فورسز کی 221کمپنیوں کی تعیناتی میں مزید 30روز کی توسیع کردی ہے۔ یہ فیصلہ انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، 8سے 12اکتوبر کے دوران احتجاج سے نمٹنے کے لیے تقریبا 26ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔گزشتہ روز وزارت داخلہ میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اہلکاروںکی تعیناتی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ پولیس اہلکار امن و امان برقرار رکھنے میں دہلی پولیس کی معاونت کریں گے۔ ان کی تعیناتی کا مقصد جنتر منتر، پارلیمنٹ اور وسطیٰ دہلی کے دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی یقینی بنانا ہے۔
تعینات دستوں میں پہلے سے موجود 111کمپنیوں کے علاوہ مزید 110کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس، سشستر سیما بل، ریپڈ ایکشن فورس، انڈو-تبتین بارڈر پولیس اورسینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے اہلکار شامل ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی عمل سے لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کردیاگیاہے ۔ 10اکتوبر کے بڑے مظاہرے کے بعد بھی نئی دہلی کے مختلف مقامات پر احتجاج کاسلسلہ جاری رہے۔
مبصرین کے مطابق، فورسزاہلکاروں کی بھاری تعیناتی میں توسیع مزید احتجاج کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ ناقدین نے اس صورتحال پر جمہوری اختلافِ رائے سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بے دریغ استعمال کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی ہے-







