پنجاب :نامعلوم مسلح افرد کی فائرنگ میں سکھ کارکن قتل
مودی حکومت سکھ نوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کر خالصتان تحریک کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے
امرتسر:بھارتی ریاست پنجاب میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک سکھ کارکن کو قتل کردیا جبکہ چار دیگر کو زخمی کردیا۔
منشیات کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے کارکن پرویندر سنگھ جھوٹاکو مانسا شہر میں ایک میڈیکل اسٹور پر فائرنگ کے دوران قتل کیاگیا ۔فائرنگ کے دوران ان کے چار ساتھی بھی ہوئے۔
پرویندر سنگھ کے فیس بک پیج پر 5 منٹ 48 سیکنڈ کی فائرنگ کی لائیو ویڈیو نشر کی گئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق، پرویندر سنگھ جھوٹا اور ان کے ساتھی منشیات کی فروخت پر میڈیکل اسٹور کے مالک سے بحث کررہے تھے۔
تمام پانچ افراد کوشدید زخمی حالت میں مانسا کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے پرویندر سنگھ جھوٹا کو مردہ قرار دیا۔ ہسپتال کے سینئر میڈیکل افسر ڈاکٹر گرمائل سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ جھوٹا کو تین گولیاں لگی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔ ڈاکٹر کے مطابق، دیگر زخمیوں کو معمولی گولیاں لگی ہیں۔واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سول ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔
اس واقعے نے پنجاب میں منشیات کے پھیلا ئواور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو درپیش خطرات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
خالصتان تحریک کے حامی کارکنوں کا کا دعوی ہے کہ سکھ نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا کر آزاد خالصتان کی تحریک کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔







