لہہ میں شراب کے نئے لائسنس جاری کرنے کے خلاف خواتین کا احتجاج
لہہ :لداخ کے دارالحکومت لہہ میں مختلف سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر نکل کر نئے شراب خانے قائم کرنے اور شراب فروخت کرنے کے نئے لائسنس جاری کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین نے لداخ کے سماجی و ثقافتی تشخص اور نازک معاشرتی ڈھانچے کے تحفظ کے حق میں نعرے لگائے۔ انہوں نے ایکسائز پالیسی فوری طور پر واپس لینے اور حکومت سے لداخ کو شراب سے مکمل طور پرپاک خطہ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔پرامن احتجاجی مارچ میں ضلع بھر سے خواتین نے شرکت کی۔انہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے لہہ کی مرکزی سڑکوں پر مارچ کیا۔
بعد ازاں احتجاجی مظاہرے سے مقامی رہنماوں، خواتین نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے خطاب کیا۔ انہوں نے خطے میں شراب فروخت کرنے والے مراکز کی تجارتی توسیع پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔مقررین نے کہا کہ نئے بار لائسنسوں، گیسٹ ہاوسز میں شراب کی اجازت اور شراب کے تجارتی مراکز میں اضافے سے سماجی ہم آہنگی، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور لداخ کا روایتی پرامن طرزِ زندگی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
احتجاج میں شریک ایک خاتون رہنما نے کہاکہ شراب کی دکانوں اور بارز کے لیے وسیع پیمانے پر اجازت نامے جاری کرنے سے مقامی خاندانوں اور نوجوان نسل پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ شراب کے بڑھتے ہوئے کاروبار کے سماجی نقصانات سب سے پہلے خواتین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سماجی ذمہ داری کو ترجیح دے اور لداخ کو شراب سے پاک خطہ قرار دے۔








