’انڈیا اتحاد‘ کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک تحریک جاری رکھنے کا عزم
مودی حکومت اپنے غلط کاموں کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہے، راہول گاندھی
نئی دہلی: ’انڈیا اتحاد‘ نے جمہوریت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کا عمل روکنے کے مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں، اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کو اپنی رہائش گاہ پر چائے پر مدعو کیا اور تحریک کی آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر کہا گیا کہ گزشتہ چار روز کی تحریک نے جمہوریت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کے اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ جمہوریت کے تحفظ، ایس آئی آر کا عمل روکنے اور گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دینے اور احتجاجی مقام دہلی کی سرحد پر منتقل کرنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ حکومت کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپنے غلط کاموں کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہے اور اسے عوام کے مطالبات پورے کرنا ہی ہوں گے۔
انڈیا اتحاد ووٹ چوری کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
راہول گاندھی کی چائے کی دعوت میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری ڈی راجہ، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری ایم اے بے بی اور دیگر رہنما شامل تھے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران انڈیا اتحاد کے پروگراموں کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ اس تحریک کو آگے بڑھانے میں راہول گاندھی اور دیگر رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور عوامی مسائل کو پوری سنجیدگی اور لگن کے ساتھ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔
کھرگے نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ایس آئی آر کا عمل ختم کرنے کے مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رہے گی، خواہ اس میں ایک یا دو سال ہی کیوں نہ لگ جائیں۔ حزبِ اختلاف ہرگز اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔






