بھارت

بھارت : ”بی جے پی ” حکومت کے زوال کے آثار ، احتجاجی تحریکوں میں تیزی

اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ،بے روزگاری، معاشی عدم مساوات مودی حکومت کی پہچان

اسلام آباد : بھارت میں بی جے پی کے اقتداد کے زوال کے آثار واضح نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ہندوتوا پر مبنی اسکے طرزِ حکمرانی کے خلاف پسماندہ نسلی و مذہبی اقلیتوں اور معاشی استحصال کا شکار طبقات میں بے چینی، محرومی اور احتجاجی تحریکیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیکولرازم کی بنیاد پر قائم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے بھارتی دعوے آج مکمل طور پر جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ مودی حکومت 2014سے ملک کی جمہوری ، آئینی اور سیکولر روایات کو انتہائی بے دردی سے مسلسل پائوں تلے روند ڈالتی آرہی ہے اور زعفرانی دور حکومت میںملک کی اقلیتیں خاص طور پر مسلمان متواتر طورپرانتہائی خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔
بھارتی دانشوروں اور سیاسی مبصرین میں یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ ہندو قوم پرستی اور مذہبی اکثریت کی بالادستی پر مبنی سیاسی نظام آخر کب تک قومی یکجہتی کو برقرار رکھ سکتا ہے، جب سیاسی نمائندگی، معاشی مواقع، مساوی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے عوامی احتجاج مسلسل بڑھ رہے ہوں۔ نام نہاد جمہوری ملک کے اس وقت جو حالات ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مودی کی سیاسی بالادستی کو درپیش چیلنجز بڑھ رہے ہیں اور بحران روز بہ روز شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ،نوجوانوں کی بے روزگاری، معاشی عدم مساوات جیسے مسائل مودی حکومت کی پہچان بن چکے ہیں ۔ تاہم ناانصافیوں پرمبنی بی جے پی حکومت کے اس نظام کے خاتمے کا اب وقت قریب دکھائی دے رہا ہے اور مودی کے احتساب کا وقت آ پہنچا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) اب بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
بی جے پی حکومت نے بھارت کا جمہوری چہرہ ہندوتوا پر مبنی انتہاپسندانہ سیاست، آمرانہ طرزِ حکمرانی اور سرمایہ دار اشرافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کے باعث سخت پراگندہ کر دیا ہے۔
وی ڈیم (V-Dem) کے مطابق،بھارت انتخابی جمہوریت کے اشاریے میں 106ویں نمبر پر ہے، جہاں اس کا سکور 38.0 بتایا گیا ہے، جبکہ فریڈم ہائوس نے اسے 100 میں سے 62 نمبر دیے ہیں؛ یہ درجہ بندیاں بھارت میں جمہوری آزادیوں اور انتخابی نظام کی صورتِ حال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
اسٹارلنک کے ضابطہ جاتی تنازع کے دوران ایلون مسک نے بھارتی نظام پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا مکیش امبانی ہی اصل حکمران ہیں اور کیا بھارت کے اصل وزیرِاعظم امبانی ہیں؛ یہ معاملہ ریاستی پالیسیوں، ارب پتی کاروباری شخصیات کے اثرورسوخ اور آزادانہ مسابقت کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انتخابی شفافیت بھی شدید تنازعات کی زد میں ہے؛ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر)کے دوران 13.3 سے 13.4 کروڑ رائے دھندگام کے نام خارج کیے جانے کا ایک انتہائی حساس معاملہ سامنے آیا، جن میں سے 71 فیصد سے زیادہ کو غیر حاضر یا منتقل شدہ قرار دیا گیا، جس کے بعدحزب اختلاف کے” انڈیا اتحاد” اور نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم” کاکروچ جنتا پارٹی” سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے انتہائی کامیاب احتجاج کیا گیا۔جس دوران پولیس کریک ڈان اور سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں نے شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے حق سے متعلق خدشات کو مزید بڑھادیا ہے۔
”آرمڈ کنفی لیکٹ اینڈ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا ”(اے سی ایک ای ڈی )کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 20,606 مظاہرے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ستمبر 2026 تک مزید 18,074 مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئیں؛ یہ اعداد و شمار دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کی یک طرفہ منسوخی کے بعد سخت پابندیوں، بڑی تعداد میں فورسز کی تعیناتی، مواصلاتی بندشوں اور اظہار رائے کے حق پر قدغنوں نے کشمیری عوام کے حقوق اور ان کی آواز کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا۔
ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات موجود ہیں؛ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے )پر امتیازی سلوک کے الزامات، مسلمانوں کے گھروں ، مساجد ، درگاہوں اور مذہبی مقامات کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں، اور منی پور میں نسلی تشدد بھارت کے سماجی و سیاسی بحران کی نمایاں مثالیں ہیں۔
منی پور کے تشدد میں 260 سے 306 افراد کی ہلاکت، 60ہزار کے قریب لوگوں کا بے گھر ہونا اور 360 سے زائد گرجا گھروں کی تباہی سے متعلق اعداد و شمار اس انسانی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
2025 میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کی تعداد 1,318 بتائی گئی، جن میں سے 98 فیصد واقعات کا نشانہ مسلمان ہونے کی اطلاعات ہیں؛ یہ صورتِ حال مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش پیدا کرتی ہے۔
2026 کے وسط تک نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 16.2 فیصد تک پہنچنے کا دعوی معاشی مواقع، روزگار اور نوجوان نسل کے مستقبل سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔
جب جمہوری اداروں پر اعتماد کمزور ہو، اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوں، معاشی مواقع محدود ہوں اور اقتدار چند بااثر طبقات کے گرد گھومتا دکھائی دے، تو کسی بھی حکومت کی سیاسی بنیادیں ہلنے کا عمل لازمی ٹھہر جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مودی حکومت ان بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز پر قابو پا سکے گی، یا یہی بحران بالآخر اس کی سیاسی بالادستی کے خاتمے کا سبب بنیں گے؟۔جون 2024 کے عام انتخابات پر اگر نظرڈالی جائے تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کو اپنے طور پر سادہ اکثریت نہیں ملی تھی، تاہم اتحادی جماعتوں ”نیشنل ڈیموکریٹک الائنس ) این ڈی اے )کی مدد سے نریندر مودی نے مسلسل تیسری بار وزارت عظمی کا حلف اٹھایا تھا۔
الیکشن کمشین کے ساتھ ساز باز اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے متنازعہ عمل کی وجہ سے بی جے پی نے مغربی بنگال اور دیگر کئی ریاستوں میں اپنی حکومت بناتو لی تاہم مذکورہ عمل کے خلاف اب جس شدت کے ساتھ ملک کے طلبائ، نوجوان ، سول سوسائٹی متحرک ہو چکی اور اس حوالے سے کانگریس اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں بھی جس سرعت سے میدا ن میںآئی ہیں ، اس سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ اگر 2029کے عام انتخابات میں اب مودی حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button