مقبوضہ کشمیر: جاسوسی کے الزام میں بھارتی فوجی افسر کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج
جموں: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے شہر جموں میں بھارتی فوج کے ایک افسر کی بیوی کے خلاف چین کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون، جو بھارتی فوج کے ایک میجر کی بیوی ہیں، نے مصنوعی ذہانت کے ٹولز، بشمول چیٹ جی پی ٹی اور کلاوڈ، کی مدد سے چین کے مبینہ انٹیلی جنس اہلکاروں کے لیے حساس سکیورٹی، دفاعی اور جغرافیائی سیاسی امور پر تجزیاتی مقالے تیار کیے۔
قابض حکام کے مطابق، خاتون فری لانس محقق کے طور پر کام کر رہی تھیں اور 2023 میں اقوام متحدہ کے ساتھ آئی ٹی انٹرن شپ بھی کر چکی ہیں۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کو مبینہ طور پر لائن آف کنٹرول کی صورتحال، مقبوضہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی معاملات، ریاست اروناچل پردیش میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور ڈرونز کی تعیناتی سمیت مختلف حساس موضوعات پر تجزیاتی مواد تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
جموں کے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں جمعے کے روز آفیشل سیکریٹس ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ حکام کے مطابق، ان دفعات کا تعلق جاسوسی، سرکاری معلومات کے غیر مجاز استعمال، مجرمانہ سازش اور بھارتی خودمختاری کے خلاف جرائم سے ہے۔
قابض حکام کا مزید کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے 14 اکتوبر کو جموں توی ریلوے اسٹیشن پر خاتون کو اس وقت روکا، جب وہ پٹھان کوٹ جانے والی ٹرین میں سوار ہو رہی تھیں۔ انہیں پوچھ گچھ کے لیے قریبی فوجی اسٹیشن لے جایا گیا، جبکہ ان کا موبائل فون تحویل میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، خاتون نے 2022 میں جنیوا سے یورپی اور بین الاقوامی حکمرانی میں ماسٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز مکمل کیا تھا، جبکہ 2021 میں بنگلورو کی ایک یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کی شادی اکتوبر 2023 میں بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس میجر سے ہوئی تھی۔
قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ میں انٹرن شپ کے دوران خاتون کے متعدد غیر ملکی شہریوں سے رابطے رہے، جن میں ایک چینی شہری بھی شامل تھا۔ حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 2024 میں سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک کنسلٹنٹ سے رابطہ ہوا، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ چینی انٹیلی جنس اداروں کے لیے کام کر رہا تھا۔
ضبط کیے گئے موبائل فون سے ابتدائی طور پر حاصل کردہ ڈیٹا میں بھارت اور اٹلی کے دفاعی اجلاسوں، بھارتی آرمی چیف کے دورۂ امریکا، بھارت اور روس کے دفاعی معاہدوں، اروناچل پردیش میں کمالائی دوم اور کامالا منصوبوں، کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن، بھارت اور سیشلز کے تعلقات، آسام میں منصوبوں اور بھارت چین تعلقات جیسے موضوعات پر تیار کردہ دستاویزات شامل ہیں۔
تحقیقاتی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا خاتون نے فری لانس تحقیق کی آڑ میں مشتبہ غیر ملکی رابطوں کے ساتھ منظم انداز میں معلومات کا تبادلہ کیا۔ حکام کے مطابق، ان کے ڈیجیٹل آلات اور مالی لین دین کی تفصیلی جانچ بھی جاری ہے تاکہ مبینہ طور پر شیئر کیے گئے مواد کی نوعیت اور رابطوں کی حقیقت کا تعین کیا جا سکے۔






