مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال مزید ابتر ہونے پرحریت فورم کا اظہار تشویش

mirwaiz

سرینگر 25 ستمبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم نے ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت فورم نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ شہری آزادیوںپر مزید پابندیاں عائد کرنے اور انتقامی کارروائیوں کے خوف سے لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے ہر روز نت نئے ظالمانہ قوانین متعارف کروائے جارہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو کسی تحقیقات یاشنوائی کے بغیر موقع پر ہی اچانک برطرف کرنا اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت قابض حکام نے مزید چھ سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ سرکاری شعبے میں کام کر رہا ہے اور ان قوانین کا مقصد انہیں خاموش کرانا ، ان کے اظہار رائے اور تقریر کی آزادی کو کچلنا اورہر قسم کے اختلاف رائے کو دباناہے۔ فورم نے کہا کہ وہ عوام کی امنگوں کو دبانے کے اس آمرانہ طرزعمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔حریت فورم نے قابض حکام کی جانب سے مقامی صحافیوںکو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کی بھی مذمت کی۔بیان میں کہا گیا کہ مقامی صحافیوں اورذرائع ابلاغ کے اداروں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں اور آلات ضبط کرنے کے ذریعے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ ان میں سے کئی کوگرفتاربھی کیا جارہا ہے۔بیان میں افسوس کااظہار کیاگیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے اداروں اور لوگوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے، پبلک سیفٹی ایکٹ اور یگر کالے قوانین کا نفاذ ، نوجوانوں کی گرفتاریاں اورلوگوں کی مسلسل نگرانی ریاستی پالیسی کے طور پر جاری ہے اور جیلوں اورحراستی مراکزمیں کشمیریوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں سیاسی رہنما اور کارکن بغیر کسی رعایت کے برسوں سے جیلوں میں نظربند ہیںاور حریت فورم کے چیئرمین خود گزشتہ 26 ماہ سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں صورتحال ابتر ہے اور لوگ خاص طور پر نوجوان گھٹن محسوس کررہے ہیں جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔حریت فورم نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کو طاقت اور جبر سے حل نہیں کیا جا سکتا اور کشمیر کے سیاسی اور انسانی مسئلے کے حل نہ ہونے سے خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں اور اسے جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کومقبوضہ جموںوکشمیر کے عوام کوہراساں کرنے اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی پالیسی ترک کرنی چاہیے ،کالے قوانین کو واپس لینا چاہیے اور لوگوں کی شہری آزادیاں بحال کرنی چاہیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: