تازہ ترین

تلاشی اور محاصرے کی پر تشددکارروائیوں سے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ

سرینگر31 اگست (کے ایم ایس )
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے باعث کشمیریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار جن میں سے بیشتر مہلک کورونا وائر س سے متاثر ہیں تلاشی اور محاصرے کی نام نہا د کارروائیوں کے دوران سرینگر ، بڈگام ، اسلام آباد ، شوپیاں ، کولگام ، پلوامہ ، کپواڑہ ، بارہمولہ ، بانڈی پور ، کشتواڑ ، رام بن ، راجوری اور پونچھ کے اضلاع میںگھر وں میں داخل ہو کر کشمیری نوجوانوں کو گرفتار یا قتل ، خواتین ، بچوں اور بزرگوںکو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں اور املاک تباہ کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2019کے بعد سے جب بھارت نے اپنے ائین کی دفعہ 370اور 35Aکو منسوخ کر دیا،جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ بھارتی فوج اور پولیس کی جانب سے محاصرے اور تلاشی کی پرتشددکارروائیوں کے ساتھ ساتھ مہلک وائرس کی وجہ سے پابندیوں نے محصور کشمیری عوام کودرپیش مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔
ادھرامریکی روزنامے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طرح کورونا وبا کی آڑ میں بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نافذ لاک ڈائون کی وجہ سے شہروں اور قصبوں میں حالات سنگین ہو گئے ہیں۔ پولیس نے خار دار تاریں بچھا کر سڑکوں اور گلیوں کو بند کر دیا ہے اور اگر کوئی شخص گھرسے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے وحشیانہ تشدد اور بدسلوکی کانشانہ بنایا جاتا ہے۔اخبار نے ڈاکٹروں کے حوالے سے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں لوگوں میں پائی جانیوالی ناامیدی نے شدید نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے ۔دماغی صحت سے متعلق کارکنوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ڈپریشن ، اضطراب اور دیگر نفسیاتی امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔اخبار کے مطابق مقامی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ خودکشی کے رجحان میں اضافہ دیکھ رہے ہیں اور گھریلو تشدد کے بھی بڑھے ہیں ۔ ڈاکٹروں اور محققین کے مطابق مقبوضہ وادی جس کی اکثریت مسلم آبادی پر مشتمل ہے اورجوبھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے وسائل بہت کم ہیں۔2015میں ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز نے 56خاندانوں کے سروے کے بعد کہاتھا کہ تقریبا 18لاکھ کشمیری یا بالغ افراد کی مجموعی تعداد کا نصف کسی نہ کسی دماغی امراض میں مبتلا ہیںاور ہر دس میں سے نو افراد صدمے کا شکار ہیں۔KMS-15/Y

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: