مقبوضہ جموں و کشمیر

امرناتھ یاترا ختم ہونے کے دوہفتے بعد بھی پابندیاں برقرار، کاروباری حلقوں کا اظہار تشویش

سرینگر:  غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں امرناتھ یاترا ختم ہونے کے دو ہفتے بعد بھی ضلع اسلام آباد کے کئی اہم تجارتی اور سیاحتی مقامات پر پابندیاں بدستور برقرارہیںجس کے باعث تاجروں، دکانداروں اور سیاحت سے وابستہ افراد کو مشکلات اور مالی نقصانات کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تاجروں، دکانداروں اور سیاحت سے وابستہ افراد کاکہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ یاترا کے اختتام کے بعد ان تمام مقامات اور راستوں سے پابندیاں ہٹائی جائیں گی جہاں یاترا کے دوران حفاظتی انتظامات کے تحت رسائی محدود کی گئی تھی، تاہم متعدد مقامات پر پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں معمول پر نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔قاضی گنڈمیں جسے کشمیر کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے، مارکیٹ کی جانب جانے والے کئی راستوں پر پابندیاں برقرار رہنے کے خلاف دکانداروں اور تاجروں نے احتجاج بھی کیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ راستوں پر مسلسل پابندیوںکے باعث گاہکوں کی آمد متاثر ہو رہی ہے اور کاروبار کو روزانہ کی بنیاد پر نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معمول کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ادھر پہلگام اور اس کے اطراف میں بھی کئی اہم سیاحتی مقامات اور رابطہ سڑکوں پر پابندیاں برقرار ہیں، چھتہ پل، پہلگام-سلر روڈ، ایپل ویلی، بائیسرن اور پہلگام کے دیگر علاقوں کی جانب جانے والے راستوں پرپابندیوں کے باعث سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہے۔سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یاترا کے دوران حفاظتی انتظامات کے تحت بعض علاقوں میں رسائی محدود کرنا سمجھ میں آتا ہے، تاہم یاترا ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک پابندیاں برقرار رہنے سے مقامی کاروبار اور سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹرز، ہوٹل و گیسٹ ہاوس مالکان، ریستوران، گھوڑے والوں، مقامی گائیڈز اور دیگر چھوٹے کاروباری افراد کو نقصان کا سامنا ہے۔ مقامی تاجروں اور سیاحت سے وابستہ افراد نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری پابندیوں کو فوری طورپر ہٹایاجائے اور راستے اور سیاحتی مقامات عوام اور سیاحوں کے لیے کھولے جائیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button