مقبوضہ کشمیر میںحالات معمول پرآنے کا بھارتی دعوی ٰبے بنیاد ہے،احسن اونتو
نوجوانوںکی گرفتاری ،مکانات کی مسماری پر اظہار تشویش

سرینگر: انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نوجوانوں اور سیاسی قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بھارتی حکومت علاقے میں حالات معمول پر آنے کا دعوی کر رہی ہے جس میںکوئی حقیقت نہیںہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد احسن اونتو نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ 2019 کے بعد بڑی تعداد میں نوجوانوں، طلبا، تاجروں اور عام شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی افراد کو مقبوضہ علاقے سے باہر بھارتی جیلوں میں منتقل کیا گیا، جس سے ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے گھروں پر چھاپوں کے دوران ہزاروں افراد کی گرفتاری اور رہائشی مکانات مسمار کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ظالمانہ اقدامات اور مظالم سے اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا جس کا سامنا کشمیری دہائیوں سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد خاندان اپنے پیاروں کی رہائی، قانونی معاونت اور مقدمات کی پیروی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ ضمانت کی درخواستیں طویل عرصے تک زیر التوا رہتی ہیں۔محمد احسن اونتو نے بھارتی جیلوں میں بند کشمیری سیاسی قیدیوں اور آزادی پسند رہنماں کے مسائل کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو قانونی معاونت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ابتر انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور سیاسی نظر بندوںکی رہائی کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔






