حریت کانفرنس کا یاسین ملک کیخلاف مقدمات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور اس کی عدلیہ کی طرف سے جھوٹے مقدمات میں جیل میں نظربند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف انتقامی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکے خلاف درج جھوٹے مقدمات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ2019سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظر بند محمد یاسین ملک کے خلاف36 برس پرانا قتل کا جھوٹا مقدمہ دوبارہ کھولا گیا جس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ اسکے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد یاسین ملک کو 1990 میں بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت انہیں تقریباً دو درجن مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھاتاہم ان میں قتل کا کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اب 36 سال بعد انہیں قتل کے مقدمے میں ملوث کرنا سنگین سوالات کو جنم دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کے حلف نامے نے تنازعہ کشمیر کی انسانی قیمت کو پر ایک بارپھر توجہ مبذول کرائی ہے۔انہوں نے کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو برقررارکھیں اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ، پروقار اور پرامن حل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کا اپنی والدہ، اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطان کے نام حلف نامہ،، بھارت کی تہاڑ جیل میں ان کی طویل اور غیر قانونی قید کے باعث ان پر پڑنے والے شدید ذاتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ یاسین ملک کا اپنی والدہ کے لیے پیغام برسوں کی جدائی، تکلیف اور قانونی ناانصافی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ ان کی سلامتی، حوصلے اور وقار کی دعاکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیل میں بند یاسین ملک کا اپنی اہلیہ مشعال کو دل گرفتہ پیغام برسوں سے جدائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے درد کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ انہیں بھارت کی جیل میں اپنی اہلیہ کے ساتھ باقاعدہ رابطے اورملاقاتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ آٹھ سال سے انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کی آوازتک نہیں سنی ہے اور نہ ہی ان سے فون یا ویڈیو کال پر بات کی ہے۔ انہوں نے اپنی 13سالہ بیٹی رضیہ کی شکل بھی نہیں دیکھی ہے جس نے اس کے درد اور تنہائی میں اضافہ کر دیا ہے۔عبدالرشید منہاس نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر غیر قانونی طورپر نظربند یاسین ملک کے الفاظ اور درد کو سنجیدگی اور انسانی ہمدردی کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طویل عرصے سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی قیادت کے انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر نظر رکھے جنہیں سیاسی طور پر محرکات اور من گھڑت مقدمات قرار دیا جاتا ہے۔





