نئی دہلی :کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران تشدد
نئی دہلی:بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کے تشدد کے بعد اب حکمران ہندوتوا بی جے پی سے وابستہ عناصر کی جانب سے مظاہرین پر حملے اور انہیں مبینہ سیاسی پشت پناہی ملنے کے دعوے بھی سامنے آگئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندوتوا سے وابستہ اور بی جے پی کے حامی سوتنتر بھردواج نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک مظاہرین کے والد پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں 60ٹانکے لگے اور وہ موت کے قریب پہنچ گئے۔ ان کے مطابق، حملہ آور کے خلاف بھارتی تعزیرات کی دفعہ 307کے تحت مقدمہ درج ہونے کے باوجود وہ پوری رات آزاد گھومتا رہا۔سوتنتر بھردواج نے مزید دعوی کیا کہ دہلی حکومت میں بی جے پی کے وزیر کپل مشرا کی ایک فون کال کے بعد مذکورہ شخص کو ریلیف ملا۔ انہوں نے کپل مشرا کو اپنا بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی قریبی تعلقات کا دعوی کیا۔ انٹرویو کے دوران تشدد کا ذکر مسکراتے ہوئے کیے جانے پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ان دعوں کے بعد متعدد صحافیوں، سماجی کارکنوں اور کانگریس رہنمائوں نے دہلی پولیس کی کارکردگی اور مبینہ جانبداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے کہاہے کہ انہوں نے خود ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پولیس نے انہیں جواب دیا کہ ہم لوگوں کو رینڈملی گرفتار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے پولیس کے اس موقف کو جانبداری قرار دیتے ہوئے کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔صحافی رویش کمار نے کہا کہ اس نوعیت کے دعوے شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا کرتے ہیں، جبکہ نہا بورا نے دہلی پولیس کی مبینہ نااہلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والے بیانات نے پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔سوہاسنی حیدر، رویش کمار، پریانکا بھارتی اور نہا سنگھ راٹھور سمیت دیگر صحافیوں نے بھی معاملے پر آواز بلند کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حملہ اتنا سنگین تھا تو ملزمان کے خلاف مثر کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور کیا سیاسی روابط قانون سے بالاتر ہو گئے ہیں۔






