بھارت

حیدرآباد:اسلحہ گودام سے ہتھیاروں کی چوری نے بھارتی فوج کی سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے

 

حیدرآباد:بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے سکندرآباد کینٹ میں مدراس رجمنٹ کے اسلحہ گودام سے بڑی تعداد میں ہتھیار چوری ہونے کے واقعے نے بھارتی فوج کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے میڈیا کو بتایاہے کہ چوری ہونے والے ہتھیاروں میں چارAK-203 رائفلیں بمعہ پانچ میگزین، ایک انساس رائفل بمعہ تین میگزین، نو ایم ایم کی چھ پستولیں بمعہ 12 میگزین اور ایک 6.35 بور سولین پستول بمعہ میگزین شامل ہیں۔20 مدراس رجمنٹ بٹالین کے لیفٹیننٹ کرنل میانک گووتیرکر کی شکایت پر ہتھیاروں کی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، منگل کے روز حکام کو معلوم ہوا کہ اسلحہ گودام میں نقب لگائی گئی ہے۔ اسلحے اور گولہ بارود کو آخری مرتبہ 30اگست کو شام تقریبا چھ بجے چیک کیاگیاتھا، جس کے بعد گودام مقفل کر دیا گیا تھا۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار غائب ہونے یا چوری کیے جانے کا اصل وقت اور حالات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔پولیس کو شبہ ہے کہ واردات میں ممکنہ طور پر ایسے شخص کا ہاتھ ہوسکتا ہے جسے اسلحہ خانے تک رسائی حاصل تھی۔ سہولت کی حفاظت پر مامور 12 اہلکاروں کو مبینہ طور پر پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 331(4)کے تحت گھر یا عمارت میں چوری اور 305کے تحت چوری کا مقدمہ درج کیا ہے۔واقعے کی تحقیقات کے لیے اسلحہ گودام کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اور بھارتی فوج کے حکام مشترکہ طور پر معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔انتہائی محفوظ فوجی تنصیب سےAK-203رائفلوں، پستولوں، میگزینوں اور دیگر فوجی سازوسامان کا چوری ہونا بھارتی حکام کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button