مضامین

بھارتی فوجی تنصیب سے ہتھیار غائب

  • کشمیر میں بندوق ملے تو پاکستانی، اپنااسلحہ غائب ہو تو خاموشی!

ارشد میر

 

بھارت نے خود کو دنیا کا ’’وشوگرو‘‘ یعنی عالمی رہنما ثابت کرنے کی مہم شاید اتنی شدت سے چلائی ہے کہ اب اسے اپنے ہی دعووں کا بوجھ اٹھانا مشکل پڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اس وشوء گرو کے ہاں نہ صرف یورینیم چوری ہوکر کھلی مارکیٹ میں بکتی ہے بلکہ اسکی فوج اور پولیس کے انتہائی محفوظ اسلحہ خانوں سے ہتھیار و گولہ بارود غائب ہوجا نے کا سلسلہ بھی رکنے کا نام لے رہا۔ تازہ واقع ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے سکندرآباد کینٹ میں پیش آیا جہاں قائم بھارتی فوج کی مدراس رجمنٹ کے اسلحہ خانے سے چار AK-203 رائفلیں، ایک INSAS رائفل، چھ 9mm پستول اور ایک 6.35 بور پستول سمیت 21 میگزین اور سینکڑوں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق تقریباً 1,800 راؤنڈ گولہ بارود غائب ہوئے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی پولیس خود اسے ممکنہ طور پراندرونی کارروائی قرار دے رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اسلحہ خانے تک محدود رسائی، چوبیس گھنٹے پہرہ اور وہاں موجود اہلکاروں کے باوجود واردات کا ہوجانا اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ کسی ایسے شخص یا گروہ نے یہ کام کیا جسے اندرونی معلومات اور رسائی حاصل تھی۔ حتیٰ کہ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رات کے وقت اسلحہ خانے کے داخلی مقام کا CCTV کیمرہ بند کردیا گیا تھا۔
بھارت کے اسلحہ خانوں سے ہتھیاروں کی چوریاں ایک تو اسکے ناقص سیکورٹی نظام کو ظاہر کرتا ہے جو وشوء گرو کے دعویدار ملک کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے اور دوسرا ان واقعات سے یہ اس سوال کا بھی جواب ملتا ہے کہ کشمیری مجاہدین اور شمالی ریاستوں کے ماؤ نوازعلٰحیدگی پسند مزاحمت کار کہاں سے ہتھیار حاصل کرتے ہیں؟ ایسے میں بھارت کے پاکستان پر دراندزای اور مبینہ دہشتگردی کے الزامات بے معنی ہوکررہ جاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکومت اور اسکی فوج ایک طرف مسلسل سرحد پار دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ کشمیری مجاہدین کی پاکستان اعانت کرتا ہے اور دوسری طرف دراندزای روکنے کے اپنے ‘فول پروف’ اقدامات پہ ناز بھی کرتی ہیں۔ بھارتی فوج کے متعدد کمانڈروں کے باقاعدہ سرکاری بیانات ریکارڈ پرہیں جن میں انھوں نے اعتراف یا تصدیق کی کہ مبینہ دراندازہی صفر پر پہنچ چکی ہے۔ مثال کے طور پر اکتوبر 2024 میں چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا تھا کہ مقبوضہ علاقہ میں مجاہدین کی تعداد تقریباً 80 رہ گئی ہے اور یہ کئی برسوں کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح جنوری 2025 میں بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی نے اس سے بھی زیادہ اہم اعداد پیش کیے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 2024 میں صرف چار مقامی نوجوان ‘مسلح گروہوں’ میں شامل ہوئے۔ مگراعلیٰ فوجی حکام کے ان اور اس سے پہلے وقتا فوقتا دئے گئے ایسے متعدد بیانات کے باوجود بھارت کی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مشینیں بند نہیں ہوئیں۔
اس پرجب بھارتیوں کو چلینج کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیٹا سامنے لائیں کہ نائن الیون کے بعد سے بطور خاص کتنے کشمیری مجاہدین نے کنٹرول لائن عبور کرکے بقول ان کے پاک فوج سے تربیت اور اسلحہ حاصل کیا؟ اور پھرمقبوضہ علاقہ میں واپس آئے؟ ان افراد کے نام، تعداد، تربیتی مراکز، تاریخیں اوراسلحے کا ریکارڈ کہاں ہے؟ تو انھیں چپ لگ جاتی ہے۔ بھارتی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بچے کھچے مجاہدین کے پاس ایسی تربیت اوراسلحہ نہیں ہے کہ وہ بھارتی فوج پہ حملے کریں اور یوں وہ پہاڑوں اورجنگلوں میں چھپتے اور بھاگتے رہتے ہیں۔ کشمیر کے حالات سے واقف مبصرین بھی کہتے ہیں کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کاروں کی تعداد کم ہے اوران کے پاس نہ باقاعدہ تربیت ہے اورنہ مطلوبہ اسلحہ کیونکہ وہ اپنی مزاحمت کا سامان مقامی سطح پر ہی جیسے تیسے حاصل کر لیتے ہیں۔
سوال ہے کہ کیسے؟
اس ضمن میں یہ مضبوط حوالہ بڑی راہنمائی کرتا ہے۔
18 جنوری 2018 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل وکرم رندھاوا کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز سے 251 ہتھیار چھینے تھے۔ ان میں 35 AK رائفلیں، 44 INSAS، 43 SLR، پانچ .303 رائفلیں، 12 پستول، ایک LMG، دو UMG، ایک AK-41، ایک PIKA گن اور ایک گیس گن سمیت 102 آنسو گیس شیل/گرینیڈ شامل تھے۔ ان میں سے صرف 76 ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ 90 افراد گرفتار کیے گئے۔ تو جب خود بھارتی حکومت تسلیم کررہی ہے کہ سینکڑوں ہتھیار بھارتی سکیورٹی اہلکاروں سے چھینے گئے، تو ہر برآمد شدہ ہتھیار کو لازماً سرحد پار سے آنے والی ’’پاکستانی سپلائی‘‘ قرار دینے کی منطق کہاں رہ جاتی ہے؟ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر بھارتی فوج یا پولیس سے تین سال میں چھینے گئے251 ہتھیاروں میں سے صرف 76 واپس ملتے ہیں تو باقی ہتھیار کہاں گئے؟ اسی طرح 2016 میں بھی بھارتی حکومت کے اعداد و شمار سامنے آئے تھے کہ وادی کشمیر میں صرف ایک سال کے دوران 62 رائفلیں، چھ پستول اور 182 میگزین سکیورٹی اہلکاروں سے چھینے گئے۔
یہ معاملہ صرف کشمیرتک محدود نہیں ہے بلکہ بھارت کی شورش زدہ شمالی ریاستوں میں ماؤ نواز باغی بھی انہی ذرائع سے اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے انھیں چین، نیپال، بنگلہ دیش یا کوئی دُوسرا ملک تربیت یا ہتھیار تو نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کبھی بھارت نے اس بات کی شکایت کی، تو پھر وہ اسلحہ کہاں سے حاصل کرلیتے ہیں۔؟ لہٰذا جب بھارتی فوج کشمیر میں کسی برآمد شدہ رائفل کو لہرا کر فوراً اس کا رشتہ پاکستان سے جوڑتی ہے تو ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ہتھیار کا سفر بھارتی اسلحہ خانے سے تو شروع نہیں ہواتھا؟
سکندرآباد کی واردات نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف چوری کا نہیں، اداروں کی شفافیت اوراحتساب کا بھی ہے۔ ایک طرف بھارت اپنی فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شمار کراتا ہے دوسری طرف اس کی محفوظ تنصیبات سے اسلحہ غائب ہوجاتا ہے اور پولیس کو شبہ ہوتا ہے کہ واردات میں اندر کے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ بھلا فوجی تنصیبات میں اندر کے لوگ کون ہوتے ہیں؟ یہ تضاد خود بھارتی بیانیے کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ اور یہی تضاد مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اگر بھارتی فورسز کے اسلحہ خانوں سے ہتھیاروں کا غائب ہونا معمول بن چکا ہے تو پھر دراندازی روکنے، جدید نگرانی کے نظام کو قائم کرنے اوراسکی بدولت عسکریت کا تقریبا خاتمہ کرنے کے دعوؤں کے باوجود پاکستان پرالزام عائد کرنے کی کیا تُک بنتی ہے کہ وہ کشمیری مجاہدین کی اعانت کرتا ہے؟ سچ پوچئے تو بھارتی حکومت اپنی فورسز کے ہتھیاروں کے غائب ہونے کا ڈیٹا تو دے سکتی ہے مگر مبینہ دراندازی کا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پروپیگنڈا کسی ریاست کی سکیورٹی خامیوں کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ سرحدوں پر باڑ لگانے، کیمرے نصب کرنے اور ہزاروں فوجی تعینات کرنے کے باوجود اگرسرحد پار ‘آتنگ واد’ کا راگ الاپا جائے اوردوسری طرف اندرونِ ملک فوجی اسلحہ خانوں سے جدید ہتھیارغائب ہوجائیں تو مسئلہ صرف ’’دشمن کی سازش‘‘ نہیں رہتا بلکہ سوال اپنے نظام کی نگرانی، اہلکاروں کی دیانت، کمانڈ کی ذمہ داری اور ادارہ جاتی احتساب تک پہنچتا ہے۔ بھارت دنیا کو اپنی فوجی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور سرحدی نگرانی کے قصے سناتے نہیں تھکتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھی اس کا سب سے پرانا اور پسندیدہ بیانیہ یہی ہے کہ وہاں ہونے والی ہرمسلح کارروائی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، ہربندوق سرحد پار سے آتی ہے اور ہرمزاحمت کار کو پاکستان میں تربیت دی جاتی ہے۔ مگر بھارت کے اپنے واقعات اور سرکاری اعداد و شمار اس کہانی میں ایسے سوراخ کررہے ہیں جنہیں محض ’’پاکستانی دراندازی‘‘ کے شور سے نہیں بھرا جاسکتا۔
سکندرآباد کا واقعہ بھارتی فوج کے لیے شاید ایک معمول کی تحقیقات بن کر ختم ہوجائے مگر کشمیر کے تناظر میں اس کا سوال بہت دور تک جاتا ہے۔ جو فوج اپنے اسلحہ خانے کی حفاظت نہ کرپائے، اسے کشمیر کے ہر ہتھیار کا راستہ پاکستان تک پہنچانے سے پہلے اپنے ہی اسلحہ خانوں کا حساب دینا چاہیے۔اور ’’وشوگرو‘‘ کے لیے شاید اس سے زیادہ شرمندہ کرنے والا آئینہ کوئی اور نہیں کہ دنیا کو سکیورٹی کے لیکچر دینے والا ملک پہلے اپنے ہی اسلحہ خانوں کے تالے درست کرلے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button