مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی و سماجی تنظیموں پر عائپابندیاں ختم کی جائیں،میرواعظ عمر فاروق

سرینگر :کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارت سے غیر قانونی طورپرزیر قبضہ جموں و کشمیر کی سماجی اور سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں، ہراساں کرنے اور دھمکانے جیسے اقدامات امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے تحفظات کو دور اور مقبوضہ علاقے میں سماجی و سیاسی تنظیموں پر پابندی کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر اور حقیقی سیاسی آوازوں کو دبانے کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔سینئر حریت رہنماء نے عدالتوں میں ایسی پابندیوں اور اقدامات کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں قانونی تقاضوں کی تکمیل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ انداز میں اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور ایسے انتظامی اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے قانونی چارہ جوئی کا مقصد ہی بے معنی ہو جائے۔میرواعظ نے قابض حکام پر زور دیا کہ ضبط شدہ املاک اور اداروں سے متعلق معاملات میں تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کے ساتھ قانون اور عدالتی عمل کے مطابق برتا ئویقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک پائیدار سیاسی عمل حقیقی نمائندوں کو نظرانداز کرکے یا ان کی جگہ پسندیدہ متبادل کھڑے کرکے تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام میں حقیقی حمایت رکھنے والی سیاسی اور سماجی قوتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جانی چاہیے اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ان کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے۔میرواعظ نے اس امر پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی، انصاف اور حقیقی سیاسی روابط کا احترام مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیرپا امن کی جانب پیش رفت کے لیے ضروری ہے۔سینئر حریت رہنما کا یہ بیان مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور سماجی تنظیموں پر جاری پابندیوں کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے پابندیوں، املاک کی ضبطی اورجانبدارانہ قانونی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔میرواعظ نے کہا کہ بھارتی حکومت کو ظلم وجبر اور سیاسی اآوازوں کو دبانے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کے لیے ماحول پیدا کرنا چاہیے اور کشمیری عوام کی شکایات کا بامعنی اور جامع سیاسی عمل کے ذریعے ازالہ کرنا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button