اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی گرفتاریوں کا نوٹس لے
جنیوا : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی گرفتاریوں کا نوٹس لے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ایڈوکیٹ پرویز احمدنے آج اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں یونائیٹڈ ولیجز کی نمائندگی کر تے ہوے جنرل بحث سے خطاب کیا۔ پرویز احمد شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی گرفتاریوںسے مناسب طور پر نمٹنے میں ہائی کمشنر کی ناکامی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سرکاری رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف جولائی 2026 میں 3,000 سے زائد کشمیری نوجوانوں کوگرفتارکیا گیا۔ اگست تک خطے کی جیلوں میں 5,300 سے زائد قیدی موجود تھے، جبکہ ان جیلوں کی منظور شدہ گنجائش صرف 3,600 ہے۔انہوں نے کہاکہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونا جیلوں کے حالات، صحت کی سہولیات تک رسائی، صفائی ستھرائی اور کشمیری قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے منصفانہ اور غیر جانب دارانہ کارروائیوں کے حوالے سے بھارتی عدلیہ پر عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتمادکو بھی اجاگر کیا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے حلف نامے کی نشاندہی کی جس میں یاسین ملک نے بیک وقت اپنے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا اورمبینہ جرم میں ملوث ہونے سے انکار بھی کیا۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے باہم متضاد بیانات آزادانہ طور پر انصاف کی فراہمی کی عکاسی نہیں کرتے۔ یہ ممکنہ دباو¿، شدید مایوسی اور قانونی طریقہ کار پرعدم اعتماد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب افراد یہ سمجھنے لگیں کہ عدالتیں ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کریں گی تو قانون کی حکمرانی خود کٹہرے میں آ جاتی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرفتاریوں کی کڑی نگرانی کرے، جیلوں اور حراستی مراکز تک آزادانہ اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنائے اور اس بات کویقینی بنائے کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے مطابق گرفتاریوں، جیلوں کے حالات اور مقدمات کی سماعت سے متعلق تمام بین الاقوامی معیارات کی پابندی کرے۔





