میر واعظ عمرفاروق کا قرآنِ کریم کو سمجھنے اور دینی تعلیم میں خواتین کے موثر کردار پر زور
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمرفاروق نے قرآن کریم کے پیغام کو سمجھنے، اس پر غور و فکر کرنے اور اس کی تعلیمات کو اپنے کردار اور عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے حیدرپورہ سرینگر میںجامعہ سیدہ حفصہ العلوم الاسلامیہ للبنات کے زیر اہتمام طالبات کی تکمیلِ حفظِ قرآن کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظاتِ قرآن، ان کے والدین، اساتذہ اور ادارے کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی۔ میرواعظ نے کہا کہ قرآنِ کریم کو حفظ کرنا ایک عظیم سعادت ہے، تاہم قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق محض حفظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں قرآن کے پیغام کو سمجھنا، اس پر غور و فکر کرنا اور اس کی تعلیمات کو اپنے کردار اور عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ میرواعظ نے طالبات کی دینی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دین کا علم اور شعور رکھنے والی ایک خاتون بحیثیت بیٹی، بیوی، ماں، معلمہ اور عالمہ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔میر واعظ نے طلباءپر زور دیا کہ وہ حفظ کو قرآن کے ساتھ اپنے سفر کے آغاز کے طور پر دیکھیں ۔ انہوں نے قرآن کے معانی، تفسیر اور سیرت کے مطالعے کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول اور معاشرے کی خدمت پر زوردیا۔ میرواعظ نے بچوں کو مساجد سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو محبت اور تحمل کے ساتھ مساجد میں خوش آمدید کہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مساجد کو عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم، تربیت، رہنمائی اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں کے مراکز بننا چاہیے، جہاں بچوں کے لیے قرآن و سیرت کی تعلیم، خواتین کے لیے دینی پروگرام اور نوجوانوں کے سوالات اور مسائل پر کھلے ماحول میں رہنمائی کا انتظام ہو۔






