کپواڑہ میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کے باعث لوگوں کو شدیدمشکلات کا سامنا
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہندواڑہ کے علاقے ماور میں متعدد دیہات کے رہائشیوں نے موبائل انٹرنیٹ کی سست رفتار پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص رابطے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر آباد، لام، آوڈورہ، وارپورہ، چیک آوڈورہ اور درگنسو سمیت کئی دیہات سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ ناقص انٹرنیٹ رابطے کے باعث آن لائن تعلیم، گھر سے کام کرنے، معلومات تک رسائی اور دیگر ڈیجیٹل سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے صحافیوںکو بتایا کہ علاقے کے طلبہ سست انٹرنیٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کرنے والے متعدد امیدواروں سمیت ملازمت کے خواہشمند افراد بارہا یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بہت سے امیدوار اب اپنی تیاری جاری رکھنے کے لیے دیگر علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار، رابطے اور سرکاری و دیگر آن لائن خدمات تک رسائی کے لیے قابلِ اعتماد تیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ متعلقہ حکام کے نوٹس میں بارہا مسئلہ لانے کے باوجود ان کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ رہائشیوں نے ڈپٹی کمشنر کپواڑہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں اور متاثرہ علاقوں میں قابلِ اعتماد موبائل انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندیاں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ رہی ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد جب نئی دہلی نے علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کردی، خطے میں دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش دیکھی گئی جو 552 روز تک جاری رہی۔ براڈ بینڈ سروس بحال کیے جانے کے بعد بھی حکام نے 18 ماہ تک انٹرنیٹ سروس کو 2G تک محدود رکھا جس سے تعلیم، کاروبار اور صحت کی خدمات شدید متاثر ہوئیں۔ اس کے بعد سے خاص طور پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، اہم دنوں اور عوامی احتجاج کے دوران مخصوص علاقوں میں بار بار انٹرنیٹ بند کرنے، رفتار محدود کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔







.jpeg)
