عالمی یومِ امن: مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک سال کے دوران 4,700کشمیری گرفتار
تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے کے باعث مظلوم کشمیری شدیدمشکلات کا شکار
اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منا یا جارہا ہے ، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے جہاں مسلسل بھارتی قبضے اورریاستی جبر سے خوف ودہشت کی فضا قائم ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج یومِ امن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 79 برس سے مظلوم کشمیریوں کو بھارتی فورسزکی طرف سے شدید سیاسی ناانصافی، ہراسانی اور مظالم کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز اور ایجنسیاں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تشدد، گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں سمیت ظالمانہ ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہیں۔ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے اور کشمیریوں کو جدوجہد آزادی ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی کو باقاعدہ پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تاہم وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا ہے۔دفعہ 370اور 35 اے کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرپر سخت فوجی محاصرہ مسلط کر دیا گیا جبکہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی پشت پناہی سے قائم بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے خطے کو عملا ایک حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں آر ایس ایس کے ہندوتواایجنڈے کے تحت نصابِ تعلیم میں تبدیلیاں کرکے کشمیری ثقافت اور تاریخ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بی جے پی حکومت نے حریت کانفرنس کی اعلیٰ قیادت، کارکنوں، خواتین، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت 3,000سے زائد کشمیریوں کو بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظربند کر رکھا ہے تاکہ سیاسی آوازوں کو خاموش کیا جائے۔ بھارتی فوج، پولیس، پیراملٹری فورسز اور بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اورایس آئی اے کے اہلکاروں نے رواں سال مختلف علاقوں میں پرتشدد محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 4,700سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکیا اور ان سے پوچھ گچھ کی ۔گرفتار افراد میں حریت رہنما حیات احمد بٹ، فاروق احمد توحیدی، غلام محمد خان سوپوری،انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونتو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء یاسر کشمیری، شہباز اور دیگر شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے خلاف کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکار بڑے پیمانے پر جنگی جرائم میں ملوث ہیں جس کے باعث یہ علاقہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بن چکا ہے۔ محصوراورمظلوم کشمیری عالمی برادری کی مداخلت کے منتظر ہیں۔کشمیری گزشتہ 79 برس سے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے سمیت اپنے جائز حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، تاہم بھارت تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر مذہبی و اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بڑے پیمانے پرمظالم کے باعث دنیا میں عدم استحکام اور تشدد کے بڑے مراکز میں شامل ہونے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ محض انفرادی یا مقامی نوعیت کا نہیں بلکہ منظم نوعیت کا ہے اور مذہبی قوم پرستی کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری سے خاموشی توڑنے اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر شدید احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوتوا پر مبنی فرقہ وارانہ ایجنڈے کو روکنے کے لیے آگے بڑھے جو امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری کارروائیوں پر بھارت کے محاسبے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کو بچانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔








