پاکستان سے یواین جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر موثرطورپر اٹھانے کامطالبہ
وزیراعظم شہباز شریف کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالتِ زار اجاگر کریں گے،ڈی ایف پی
سرینگر: ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دورۂ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس موقع پر جموں و کشمیر کے حل طلب دیرینہ تنازعے کو بھرپور اور مؤثر انداز میں اٹھائیں،اور خاص طور پر بھارت کے غیرقانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کواجاگرکریں۔
ڈی ایف پی نے ایک بیان میں زور دیا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی یا دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون سے جڑاایک حل طلب تنازعہ ہے۔ بیان میں کیاگیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ انسانی حقوق کی سنگین صورتحال بھی بین الاقوامی برادری کے سامنے واضح طور پر پیش کی جانی چاہیے۔
ڈی ایف پی نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور او آئی سی رابطہ گروپ کو کشمیری سیاسی قیدیوں کی مسلسل نظربندیوں اور طویل حراست، جائیدادوں کی ضبطی اور مسماری، اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی حراست سے آگاہ کیا جاناچاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ، یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، قاسم فکٹو، ڈاکٹر حامد فیاض، نعیم احمد خان، ظفر اکبر بٹ، اور دیگر کشمیری سیاسی رہنما اور کارکنان، ہزاروں دیگر افراد کے ساتھ، طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں۔
بعض کشمیریقیدی تقریباًتیس اور چالیس، تیس سال سے جیلوں میں بند ہیں، جن میں شبیر احمد شاہ کی تقریباً چار دہائیوں پر محیط نظربندی ایک نمایاں مثال ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کی مسلسل گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ، گھروں پرچھاپوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی اور گھروں کی مسماری کاسلسلہ بھی جاری ہے۔
ڈی ایف پی نے وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا ذکر محض عمومی حوالے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیری سیاسی قیادت اور سیاسی قیدیوں کی طویل حراست، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جائیدادوں کی ضبطی اور مسماری، اور کشمیر کے عوام کو درپیش مشکلات کو ٹھوس حقائق اور شواہد کی روشنی میں خاص طور پر اجاگر کریں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کو تمام دستیاب سفارتی فورمز، بشمول اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کے متعلقہ فورمز اور جموں و کشمیر کے بارے میں او آئی سی رابطہ گروپ، کو بروئے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔









