بھارت : اتر پردیش میں بی آر امبیدکر کے151 مجسموں کو نقصان پہنچایاگیا: اکھلیش یادو
لکھنو: بھارت میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے دور میں 2017 سے اب تک 75 میں سے 72 اضلاع میں ڈاکٹر بی آر امبیدکر کے کم از کم 151 مجسموں کو نقصان پہنچایا یا مسخ کیا گیا ہے۔
اکھلیش یادو نے لکھنو¿ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار سماج وادی پارٹی نے میڈیا رپورٹس اور پولیس کی کارروائی سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے ہیں۔بی آرامبیدکرنے بھارت کے آئین کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا اور پسماندہ طبقات بالخصوص دلتوں کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ اتر پردیش میں انہیںنمایاں سیاسی اور سماجی اہمیت حاصل ہے جہاں درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ریاست کی آبادی کا پانچویں حصہ سے زیادہ ہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ 151 واقعات میں سے صرف 14 میں گرفتاریاں کی گئیں۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 84 واقعات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ 45 مقدمات میں نامعلوم ملزمان کے خلاف اور آٹھ مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
سماج وادی پارٹی کی مرتب کردہ تفصیلات کے مطابق آدتیہ ناتھ کے 2017 سے 2022 تک پہلے دور حکومت میں امبیدکر کے 46 مجسموں کو نقصان پہنچانے کے واقعات پیش آئے جبکہ دوسرے دور حکومت میں 105 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ اعداد و شمار میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں اور ان میں ایسے واقعات شامل نہیں جو رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مجسموں کوجان بوجھ کر مسخ کیا جاتا ہے، وہ آئین کو تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ نہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں بابا صاحب امبیدکر کے مجسموں کو جاگیردار عناصر مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔





